تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 186

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۶ سورة الفاتحة کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: ۱۰۸) جیسے رَبِّ الْعَلَمِينَ تمام ربوبیت کو چاہتا تھا اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات اور آپ کی ہدایت و تبلیغ گل دنیا اور گل عالموں کے لئے قرار پائی۔پھر دوسری صفت رحمن کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے بھی کامل مظہر ٹھہرے کیونکہ آپ کے فیوض و برکات کا کوئی بدل اور اجر نہیں۔مَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ من أجر (الفرقان: ۵۸) پھر آپ رحیمیت کے مظہر ہیں آپ نے اور آپ کے صحابہ نے جو محنتیں اسلام کے لئے کیں اور ان خدمات میں جو تکالیف اُٹھا ئیں وہ ضائع نہیں ہو ئیں بلکہ ان کا اجر دیا گیا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن شریف میں رحیم کا لفظ بولا ہی گیا ہے پھر آپ مالکیت یوم الدین کے مظہر بھی ہیں اس کی کامل تجلی فتح مکہ کے دن ہوئی۔ایسا کامل ظہور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اربعہ کا جو اقد الصفات ہیں اور کسی نبی میں نہیں ہوا۔احکم نمبر ۲۹ جلد۷ مؤرخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰) الحمد لله کا مظہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ظہوروں محمد اور احمد میں ہوا۔اب نبی کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرام کی تعریف میں پورا بھی کر دیا گو یا اللہ تعالیٰ فلی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے۔اس لئے فنافی اللہ کے یہی معنے ہیں کہ انسان انہی صفات کے اندر آ جائے۔اب دیکھو کہ ان صفات اربعہ کا عملی نمونہ صحابہ میں کیسا دکھایا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو مکہ کے لوگ ایسے تھے جیسے بچہ دودھ پینے کا محتاج ہوتا ہے۔گویار بوبیت کے محتاج تھے وحشی اور درندوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے آ محضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کی طرح دودھ پلا کر ان کی پرورش کی۔پھر رحمانیت کا پر تو کیا وہ سامان دیئے کہ جن میں کوشش کو کوئی دخل نہ تھا۔قرآن کریم جیسی نعمت اور رسول کریم جیسا نمونہ عطا فرمایا۔پھر رحیمیت کا ظہور بھی دکھلایا کہ جو کوششیں کیں اُن پر نتیجے مترتب کئے ان کے ایمانوں کو قبول فرمایا۔اور نصاریٰ کی طرح ضلالت میں نہ پڑنے دیا بلکہ ثابت قدمی اور استقلال عطا فرمایا۔کوشش میں یہ برکت ہوتی ہے کہ خدا ثابت قدم کر دیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کوئی مرتد نہ ہوا۔دوسرے نبیوں کے احباب میں ہزاروں ہوتے تھے۔حضرت مسیح کے تو ایک ہی دن میں پانسو مرتد ہو گئے۔اور جن پر بڑا اعتبار اور وثوق تھا اُن میں سے ایک نے تو ۳۰ درہم لے کر پکڑوا دیا اور دوسرے نے تین بار لعنت کی۔بات اصل میں یہ ہے کہ مرتی کے قویٰ کا اثر ہوتا ہے جس قدر مربی قوی التا ثیر اور کامل ہوگا ویسی ہی اس کی تربیت کا اثر مستحکم اور مضبوط ہوگا۔