تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 181

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة الفاتحة وَثِمَارُهَا وَسُقِطَ أَنْوَارُهَا أَوْ بَلْدَةٍ | برکتوں والا تھا لیکن اب اس کی نہریں خشک ہوچکی ہوں یا طَيِّبَةٍ غِيْضَ أَنهَارُهَا۔أَوْ قُصُورٍ مُشَيَّدَةٍ ایسے مضبوط محلات کی مانند ہے جن کے نشان تک مٹا دیئے على آثَارُهَا وَ مَزَّقَهَا الْمُمَرِّقُونَ وَ گئے ہوں۔برباد کرنے والوں نے انہیں پارہ پارہ کر دیا ہو اور قِيْلَ مَاتَتْ وَنَعَى النَّاعُونَ وَطُبعَت کہ دیا ہو کہ وہ (ملت) مرچکی ہے اور اس کی موت کی خبر دینے أَخْبَارُهَا وَأَشَاعَتْهَا الْمُشِيعُونَ وَ والوں نے اس کی موت کی خبر دے دی ہو۔اس کے حالات لِكُلِ كَمَالِ زَوَالٌ وَلِكُلّ ترغرُع چھپ چکے ہوں اور شائع کرنے والوں نے انہیں شائع کر اضْمِحْلَال كَمَا تَرَى أَنَّ السَّيْلَ إِذَا دیا ہو۔بے شک ہر کمال کے لئے زوال ہے اور ہر جوانی وَصَلَ إِلَى الْجَبَلِ الرَّاسِي وَقَفَ وَاللَّيْلَ نے (ایک دن) ڈھلنا ہے۔جیسا کہ تمہیں معلوم ہے جب إِذَا بَلَغَ إِلَى الصُّبْحِ الْمُسْفِرِ الْكَشَفَ سیلاب کسی مقام پہاڑ تک پہنچتا ہے (وہیں ) رُک جاتا ہے ستحکم كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى " وَاليْلِ اِذا اور رات جب پو پھٹنے کے قریب پہنچتی ہے (اس کی تاریکی عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَس فَجَعَلَ خود بخود چھٹ جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاليْلِ دو 66 تَنَفَّسَ الصُّبْحِ كَأَمْرٍ لَّازِهِ بَعْدَ كَمَالِ إِذَا عَسْعَسَ وَ الصُّبْحِ إِذَا تَنَفَس پس اللہ تعالیٰ نے ظُلُمَاتِ اللَّيْلِ۔وَكَذَالِكَ في قَوْلِهِ رات کے اندھیروں کی انتہا کے بعد صبح کے ظہور کو ایک يا رضُ ابْلَعِى ، جُعِلَ كَمَالُ السَّيْلِ لازمی امر قرار دیا ہے۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے قول دَلِيلٌ زَوَالِ السَّيْلِ فَأَرَادَ اللهُ أَنْ يَاَرْضُ ابْلَعِى سیلاب کے کمال کو سیلاب کے زوال کی يَرُذَ إِلَى الْمُؤْمِنِينَ أَيَّامَهُمُ الْأُولى علامت قرار دیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ وَأَنْ يُرِيَهُمْ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَأَنَّهُ الرَّحْمن و مومنوں پر ان کا پہلا زمانہ لوٹا دے اور ان کو دکھائے کہ وہ الرَّحِيمُ وَمَالِكُ يَوْمٍ فِیهِ ان کا رب ہے اور یہ کہ وہ رحمان اور رحیم ہے اور اس دن کا يُجْزِى وَيُبْعَثُ فِيْهِ الْمَوْلى وَإِنَّكُمْ مالک ہے جب جزا سزا دی جائے گی اور اس میں مردوں تَرَوْنَ فِي هَذَا الزَّمَانِ رُبُوبِيَّةَ الله کو ( زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔اس زمانہ میں تم محسن خدا ) الْمَنَانِ وَرَحْمَانِيَّتَ لِلْإِنْسَانِ کی ربوبیت اور انسانوں اور حیوانوں کے لئے اس کی ایسی وَالْحَيَوَانِ الَّتِي تَتَعَلَّى بِالأَبْدَانِ رحمانیت نمایاں دیکھ رہے ہو جو اجسام سے تعلق رکھتی ہے اور (التکویر:۱۹ ۱۸) ترجمہ۔اور رات جب وہ خاتمہ کو پہنچ جاتی ہے اور صبح جب وہ روشن ہو جاتی ہے۔(هود: ۴۵) ترجمہ۔اے زمین تو (اب اپنے پانی کو نگل جا۔