تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 177
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 166 سورة الفاتحة فَحَاصِلُ مَا أُبْصِرُ وَأَرى أَنَّ نَبِيِّنَا خَيْرُ | جانشین ہیں اور دائرہ ظلمیت کو کامل کرنے والے اور سب الْوَرى قَدْ وَرِتَ صِفَتَى رَبَّنَا الْأَغلى رسالتوں کے خاتم ہیں۔پس جو کچھ میں دیکھتا اور پاتا ہوں ثُمَّ وَرِثَ الصَّحَابَةُ الْحَقِيقَةُ اس کا ماحصل یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام الْمُحَمَّدِيَّةَ الْجَلَالِيَّةَ كَمَا عَرَفتَ قيما مخلوقات سے افضل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہر دو صفتوں کے مَطَى وَقَدْ سُلْم سَيْفُهُمْ فی قطع وارث ہوئے پھر جیسا کہ آپ پہلے معلوم کر چکے ہیں صحابہ دَابِرٍ الْمُشْرِكِينَ وَ لَهُمْ ذِكْرٌ لا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالی حقیقت کے وارث بنے۔اور يُنسى عِنْدَ عَبَدَةِ الْمَخْلُوقِينَ وَ مشرکوں کا قلع قمع کرنے میں ان کی تلوار کی دھاک مسلم ہے إِنَّهُمْ أَذَوْا حَتَّى صِفَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ وَ اور ان کی یاد ایسا امر ہے کہ مخلوق کے پجاری اسے بھلا نہیں أَذَاقُوْا كَثِيرًا مِنَ الْأَيْدِى الْحَربيّة۔و سکتے۔انہوں نے صفتِ محمدیت کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے بَقِيَتْ بَعْدَ ذَالِكَ صِفَةُ الأَحْمَدِيَّةِ اور انہوں نے بہتوں کو اپنے جنگی کارناموں کا مزا چکھایا۔الَّتِي مُصَبَّغَةٌ بِالْأَلْوَانِ الْجَمَالِيَّةِ اب رہی صفت احمدیت جو جمالی رنگوں سے رنگین ہے اور مُحَرَّقَةٌ بِالذِيرَانِ الْمُحِيَّةِ۔فَوَرِهَا عشق و محبت کی آگ سے سوختہ ہے۔سو مسیح موعود اس صفت الْمَسِيحُ الَّذِي بُعِثَ فِي زَمَنِ انْقِطَاعِ (احمدیت ) کا وارث ہوا جو ذ رائع ( ترقی ) کے خاتمہ، دشمنوں الْأَسْبَابِ وَتَكَشرِ الْمِلَّةِ مِن کی کھلیوں سے ملت کی بربادی اور مددگاروں اور دوستوں کے الْأَنْيَابِ وَ فُقَدَانِ الْأَنْصَارِ وَ معدوم ہونے اور دشمنوں کے غلبہ اور مخالف جماعتوں کے حملہ الْأَحْبَابِ وَغَلَبَةِ الْأَعْدَاءِ وَ صَوْلِ کے وقت مبعوث کیا گیا تا اللہ تعالیٰ اندھیری راتوں کے بعد الْأَحْزَابِ لِيُرى اللهُ نَموذَجَ مَالِكِ اسلام کی قوت اور ( مسلمان ) سلاطین کے رعب کے مٹنے کے يَوْمِ الدِّينِ بَعْدَ لَيَالِي الظُّلام بعد اور ملت محمدیہ کے اپاہجوں کی مانند ہو جانے کے بعد اپنی وَبَعْدَ الهدّامِ قُوَّةِ الْإِسْلامِ وَسَطوَةِ مالكيت يَوْم الدین کا نمونہ دکھائے۔پس آج ہمارا دین السلاطينِ وَ بَعْدَ كَوْنِ الْمِلَّةِ بے وطنوں کی طرح ہو گیا۔اس کی حکومت سوائے آسمان کے كَالْمُسْتَضْعَفِينَ۔فَالْيَوْمَ صَارَ دِینُنا اور کہیں باقی نہیں رہی (اس وقت کے ) اہل زمین نے اس کو كَالغُرَباءِ - وَمَابَقِيَتْ لَهُ سَلْطَنَةٌ إِلَّا نہیں پہنچانا۔اور اسکے خلاف دشمنوں کی طرح اٹھ کھڑے فِي السَّمَاءِ - وَمَا عَرَفَهُ أَهْلُ الْأَرْضِ ہوئے ہیں۔پس اس ضعف اور شان وشوکت کے مٹنے کے