تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 176

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام و سورة الفاتحة الْآيَاتِ قَدْ وَقَعَتْ كَحَةٍ مُعَرَّفَ لِلَّهِ خَالِقِ خدا تعالیٰ خالق کائنات کے لئے حد معترف کی طرح الْكَاثِنَاتِ وَ إِنْ كَانَ اللهُ تَعَالَى ذَاتُهُ عَنِ ہیں۔اگر چہ خدا تعالیٰ کی ذات (درحقیقت) ہر قسم کی التَّحْدِيدَاتِ وَمِنْ هَذَا التَّعْلِيمِ وَ تحدید سے بالا ہے۔اس تشریح سے کلمہ شہادت کے الْإِفَادَةِ۔يَنْضِحُ مَعْنَى كَلِمَةِ الشَّهَادَةِ العِنى معنے بھی واضح ہو جاتے ہیں جس پر ایمان اور سعادت کا هِيَ مَنَاطُ الإِيمَانِ وَالسَّعَادَةِ وبطنه دارو مدار ہے۔اور انہی صفات کی بنا پر اللہ تعالیٰ (اپنے الصَّفَاتِ اسْتَحَلّى اللهُ الطَّاعَةَ وَ خُصَّ بندوں کی اطاعت کا مستحق ہو گیا ہے۔اور عبادت بِالْعِبَادَةِ فَإِنَّهُ يُنَزِّلُ هَذِهِ الْفُيُوضَ کے لئے مخصوص ہو گیا کیونکہ وہ ان فیوض کو ارادۂ نازل بِالْإِرَادَةِ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله فرماتا ہے۔پس جب تم لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہتے ہو تو فَمَعْنَاهُ عِندَ ذَوِى الْحَصَاتِ أَنَّ الْعِبَادَةَ لا عقلمندوں کے نزدیک اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ يجوز لأحَدٍ مِنَ الْمَعْبُودِينَ أَوِ الْمَعْبُودَاتِ دیوی دیوتاؤں میں سے کسی کی بھی عبادت جائز نہیں إِلَّا لِذَاتٍ غَيْرِ مُنرَكَةٍ مُّسْتَجيعَةٍ لهذه عبادت صرف اس ذات کی ہونی چاہئے جو ادراک الضِفَاتِ۔أَغْنِي الرَّحْمَانِيَّةَ وَالرَّحِيمِيَّةَ سے بالا اور ان صفات کی جامع ہے۔اس جگہ میری اللَّتَيْنِ هُمَا أَوَّلُ شَرْطٍ لِمَوْجُوْدٍ مُسْتَحِق مراد رحمانیت اور رحیمیت سے ہے جو کہ عبادتوں کے مستحق وجود کی پہلی شرط ہیں۔لِلْعِبَادَات ثُمَّ اعْلَمُ أَنَّ اللهَ اسْم جَامِلٌ لَّا تُدْرَك پھر جان لو کہ اللہ اسم جامد ہے اور اس کی حقیقت حَقِيقَتُهُ لِأَنَّهُ اسْمُ النَّاتِ وَالذَّاتُ لَيْسَتْ کا ادراک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اسم ذات ہے۔اور مِنَ الْمُدرَكَاتِ۔وَكُلُّ مَا يُقَالُ فِي مَعْنَاهُ ذات ایسے امور میں سے نہیں جن کا ادراک ہو سکے۔فَهُوَ مِنْ قَبِيْلِ الْأَبَاطِيْلِ وَالْخَزَعْبِيْلَاتِ لفظ الله و مشتق قرار دے کر جو معنے کئے جاتے ہیں وہ فَإِنَّ كُنْةَ الْبَارِي أَرْفَعُ مِنَ الْخيَالَاتِ سب جھوٹ اور محض خرافات ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی وَأَبْعُدَ مِنَ الْقِيَاسَاتِ۔وَإِذَا قُلْتَ مُحَمَّدٌ گنه (حقیقت) کا پانا (تمام) خیالات سے بالا اور رَّسُولُ اللهِ فَمَعْنَاهُ أَنَّ مُحَمَّدًا مَّظْهَرُ صِفَاتِ قیاسات سے دور ہے۔جب تم محمد رسول اللہ کہتے ہو تو هذِهِ الذَّاتِ وَخَلِيفَتُها في الكَمَالَاتِ اس کے معنے یہ ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ذات وَمُتَيَّمُ دَائِرَةِ الظُّليَّةِ وَخَاتَمُ الرِّسَالَاتِ باری کی صفات کے مظہر ہیں کمالات میں اس کے