تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page xx
صفحه ۳۱۳ ۳۱۶ ۳۱۶ ۳۱۷ ۳۱۷ ۳۲۱ ۳۲۱ ۳۲۲ ۳۲۲ ۳۲۲ ۳۲۶ ۳۲۸ ۳۲۹ ۳۳۰ ۳۳۴ ۳۳۵ XV نمبر شمار مضمون ۲۳۸ انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے ۲۳۹ دعا ایک اعلیٰ ہتھیار ہے جو ہر مشکل سے نجات کی راہ ہے ۲۴۰ | اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کرتے وقت تین لحاظ رکھنے ضروری ہیں الدا انسان بغیر عبادت کچھ چیز نہیں ۲۴۲ سورۃ فاتحہ میں تین قسم کی صداقتیں ۲۴۳ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک خلی سلسلہ پیغمبروں کا اس امت میں قائم کرنا چاہتا ہے ۲۴۴ سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی ۲۴۵ مغضوب عليهم سے مراد یہود اور الضالین سے مراد عیسائی ۲۴۶ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں اس بات کی طرف اشارہ کہ اس قوم میں بھی یہودی ضرور پیدا ہوں گے ۲۴۷ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا سکھانے میں یہ راز کہ تم میں مسیح ثانی پیدا ہوگا ۲۴۸ مسیح موعود کے متعلق قرآن میں کہاں کہاں ذکر ہے ۲۴۹ سورة فاتحه ام القرآن ۲۵۰ سورۃ فاتحہ میں تین گروہوں کا ذکر منعم علیہم مغضوب علیہم اور ضالین ۲۵۱ مغضوب علیہم کے نکلنے کے وقت خدا تعالیٰ نے زمین والوں کو تین طرح کی تاریکی میں پایا ۲۵۲ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں یہ اشارہ کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ یہود کی طرح اپنے مسیح کی تکفیر کرے گا ۲۵۳ مغضوب علیہم اور ضالین سے کون لوگ مراد ہیں