تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 173

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۳ سورة الفاتحة الناس بالآيَاتِ مِن الرّحمَانِ لَا | میں بھی کوئی ایسا مرد کامل پیدا ہو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بِالسَّيْفِ وَ السّنَانِ فَيُشَابِه ہو اور وہ (لوگوں کو) نرمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے۔زَمَانُه زَمَانَ الْقِيَامَةِ وَ يَوْمَ جنگ کو موقوف کرے ، تباہی پھیلانے والی تلوار کو نیام میں کرے الدين والتهور۔وَ يَمْلأُ الْأَرْضَ اور لوگوں کو تلوار اور نیزہ کی بجائے خدائے رحمان کے چمکتے نُورًا كَمَا مُلِقَتْ بِالْجَوْرِ وَ النُّورِ وَ ہوئے نشانوں سے ایک نئی زندگی عطا کرے۔پس اس کا زمانہ قَدْ كَتَبَ اللهُ أَنَّهُ يُرِى نُمُوذَجَ يَوْمِ روز قیامت اور یوم جزا و حشر ونشر سے مشابہت رکھتا ہے۔اور وہ الدِّينِ قَبْلَ يَوْمِ الدِّينِ وَ يَحْشُرُ زمین کو نور سے بھر دے گا جیسا کہ وہ اس سے پہلے ظلم اور النَّاسَ بَعْدَ مَوْتِ التَّقْوَى وَذَالِك جھوٹ سے بھری ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر رکھا ہے کہ وہ وَقْتُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَهُوَ حقیقی یوم الجزاء سے پہلے لوگوں کو اس کا نمونہ دکھائے اور تقویٰ زَمَانُ هَذَا الْمِسْكِينِ وَ اليْه کے مرجانے کے بعد لوگوں کو نئی زندگی بخشے اور یہی مسیح موعود کا أَشَارَ فِي ايَةِ يَوْمِ الدِّينِ فَلْيَتَدَبَّر زمانہ ہے۔اور وہ ( در حقیقت) اس عاجز کا (ہی) زمانہ ہے۔اور مَنْ كَانَ مِنَ الْمُتَدَبِرِينَ وَحَاصل اس کی طرف (اللہ تعالی نے ) آیت یوم الدین میں اشارہ کیا الْكَلَامِ أَنَّ فِي هَذِهِ الصِّفَاتِ الَّتی ہے پس تدبر کرنے والے اس بات میں تذ تر کریں۔خُصَّتُ بِاللهِ ذِي الْفَضْلِ وَ اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ اُن صفات میں جو فضل و احسان کے الْإِحْسَانِ۔حَقِيقَةٌ فَخَفِيَّةٌ وَ نَبَأَ مالک اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں ان میں خدا تعالی محسن حقیقی کی مَّكْتُومًا مِنَ اللهِ الْمَنَانِ وَهُوَ أَنَّهُ طرف سے ایک حقیقت مخفی ہے اور ایک پیشگوئی پوشیدہ ہے اور وہ تَعَالَى أَرَادَ بذِكْرِهَا أَن يُنْبِی یہ ہے کہ ان صفات کے بیان کرنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا رَسُولَهُ بِحَقِيقَةِ هَذِهِ الصَّفَاتِ کہ اپنے رسول ( مقبول ) کو ان صفات کی حقیقت سے آگاہ فَأَرى حَقِيْقَتَهَا بِأَنْوَاعِ کرے اور کئی قسم کی تائیدات کے ذریعہ ان کی حقیقت واضح التأْبِيدَاتِ۔فَرَبي نَبِيَّة وصحابته کرے۔پس اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے فَأَثْبَتَ بِهَا أَنَّهُ رَبُّ الْعَالمین صحابہ کی خاص رنگ میں ) تربیت فرمائی۔اور اس کے ذریعہ ثُمَّ أَتَمَّ عَلَيْهِمْ نَعْمَانه ثابت کر دیا کہ وہ ربُّ العلمین ہے۔پھر اپنی صفت رحمانیت بِرَحْمَـانِيَّتِهِ مِن غَيْرِ عَمَلِ کے ذریعہ جو بغیر کسی عامل کے عمل کے ظاہر ہوتی ہے ان پر اپنے |