تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 166
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۶ سورة الفاتحة ے نہیں محصور ہرگز راستہ قدرت نمائی کا خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی ہے خدائی کا جانا چاہئے کہ جو امر غیر محدود اور غیر محصور ہے وہ کسی قانون کے اندر آ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ جو چیز اوّل سے آخر تک قواعد معلومہ مفہومہ کے سلسلہ کے اندر داخل ہو اور کوئی جز اُس کا اس سلسلہ سے باہر نہ ہو اور نہ غیر معلوم اور نا مفہوم ہو تو وہ چیز محدود ہوتی ہے۔اب اگر خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ ور بوبیت تامہ کو قوانین محدودہ محصورہ میں ہی منحصر سمجھا جائے تو جس چیز کو غیر محدود تسلیم کیا گیا ہے اس کا محدود ہونا لازم آ جائے گا۔پس بر ہمو سماج والوں کی یہی بھاری غلطی ہے کہ وہ خدائے تعالی کی غیر متناہی قدرتوں اور ر بوریوں کو اپنے تنگ اور منقبض تجارب کے دائرہ میں گھسیڑنا چاہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جو امور ایک قانون مشخص مقرر کے ، آجائیں ان کا مفہوم محدود ہونے کو لازم پڑا ہوا ہے۔اور جو حکمتیں اور قدرتیں ذات غیر محدود میں پائی جاتی ہیں ان کا غیر محدود ہونا واجب ہے۔کیا کوئی دانا کہ سکتا ہے کہ اس ذات قادر مطلق کو اس اس طور پر بنانا یاد ہے اور اس سے زیادہ نہیں۔کیا اس کی غیر متناہی قدرتیں انسانی قیاس کے پیمانہ سے وزن کی جاسکتی ہیں یا اس کی قادرانہ اور غیر متناہی حکمتیں تصرف فی العالم سے کسی وقت عاجز ہو سکتی ہیں؟ بلا شبہ اس کا پرزور ہاتھ ذرہ ذرہ پر قابض ہے اور کسی مخلوق کا قیام اور بقا اپنی مستحکم پیدائش کے موجب سے نہیں بلکہ اسی کے سہارے اور آسرے سے ہے اور اس کی ربانی طاقتوں کے آگے بے شمار میدان قدرتوں کے پڑے ہیں۔نہ اندرونی طور پر کسی جگہ انتہا ہے اور نہ بیرونی طور پر کوئی کنارہ ہے۔جس طرح یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مشتعل آگ کی تیزی فرو کرنے کے لئے خارج میں کوئی ایسے اسباب پیدا کرے جن سے اس آگ کی تیزی جاتی رہے۔اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اُس آگ کی خاصیت احراق دور کرنے کے لئے اُسی کے وجود میں کوئی ایسے اسباب پیدا کر دے جن سے خاصیت احراق دور ہو جائے کیونکہ اُس کی غیر متناہی حکمتوں اور قدرتوں کے آگے کوئی بات ان ہونی نہیں۔اور جب ہم اُس کی حکمتوں اور قدرتوں کو غیر متناہی مان چکے تو ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم اس بات کو بھی مان لیں کہ اس کی تمام حکمتوں اور قدرتوں پر ہم کو علم حاصل ہونا ممتنع اور محال ہے۔سو ہم اس کی نا پیدا کنار حکمتوں اور قدرتوں کے لئے کوئی قانون نہیں بنا سکتے۔اور جس چیز کی حدود ہمیں معلوم ہی نہیں اُس کی پیمائش کرنے سے ہم عاجز ہیں۔ہم بنی آدم کی دنیا کا نہایت ہی تنگ اور چھوٹا سا دائرہ ہیں اور پھر اس دائرہ کا بھی پورا پورا ہمیں علم حاصل نہیں۔پس اس صورت میں ہماری نہایت ہی کم ظرفی اور سفاہت ہے کہ ہم اس اقل قلیل پیمانہ سے خدائے تعالی کی غیر محدود حکمتوں اور قدرتوں کو ناپنے