تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 165
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة جاوے کہ میں کس طور پر اس میں تصرف کرتا ہوں۔کوئی ایسی شے نہیں ہے جو میری ملکیت یا میرا حق ہو تو ایسا سمجھنے سے وہ اپنی نجات اس بات میں دیکھتا کہ اپنا تمام مال نیک مصارف میں خرچ کرے اور نیز وہ غایت درجہ کا شکر بھی کرتا کیونکہ وہی شخص دلی اخلاص اور محبت سے شکر کر سکتا ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ میں نے مفت پایا اور بغیر کسی استحقاق کے مجھے کو ملا ہے۔غرض آریا لوگوں کے نزدیک خدائے تعالیٰ نہ رب العالمین ہے نہ رحمان نہ رحیم اور نہ ابدی اور دائمی اور کامل جزا د ینے پر قادر ہے۔اب ہم یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بر ہمو سماج والوں کا معارف مذکورہ بالا کی نسبت کیا حال ہے یعنی وہ ہر چہار صداقتیں کہ جو ابھی مذکور ہوئی ہیں۔برہمو لوگ ان پر ثابت قدم ہیں یا نہیں۔سو واضح ہو کہ برہمو لوگ ان چاروں صداقتوں پر جیسا کہ چاہئے ثبات اور قیام نہیں رکھتے بلکہ ان معارف عالیہ کے کامل مفہوم پر ان کو اطلاع ہی نہیں۔اوّل خدا کا رب العالمین ہونا کہ جور بوبیت تامہ سے مراد ہے برہمولوگوں کی سمجھ اور عقل سے اب تک چھپا ہوا ہے اور وہ لوگ ربوبیت الہیہ کا دنیا پر اس سے زیادہ اثر نہیں سمجھتے کہ اس نے کسی وقت یہ تمام عالم معہ اس کی تمام قوتوں اور طاقتوں کے پیدا کیا ہے۔لیکن اب وہ تمام قوتیں اور طاقتیں مستقل طور پر اپنے اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں اور خدائے تعالیٰ کو قدرت نہیں ہے کہ ان میں کچھ تصرف کرے یا کچھ تغیر اور ا مبدل ظہور میں لاوے۔اور ان کی زعم باطل میں قوانین نیچریہ کی مستحکم اور پائیدار بنیاد نے قادر مطلق کو معطل اور بیکار کی طرح کر دیا ہے اور ان میں تصرف کرنے کے لئے کوئی راہ اس پر کھلا نہیں اور ایسی کوئی بھی تدبیر اس کو یاد نہیں جس سے وہ مثلاً کسی مادہ جار کو اس کی تاثیر حرارت سے روک سکے یا کسی مادہ بارد کو اس کی برودت کے اثروں سے بند کر سکے یا آگ میں اس کی خاصیت احراق کی ظاہر نہ ہونے دے۔اور اگر اس کو کوئی تدبیر یا د بھی ہے تو صرف انہیں حدود تک جن پر علم انسان کا محیط ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی جو کچھ محدود اور محصور طور پر کوائف و خواص عالم کے متعلق انسان نے دریافت کیا ہے اور جو کچھ تادمِ حال بشری تجارب کے احاطہ میں آچکا ہے یہیں تک خدا کی قدرتوں کی حد بست ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی قدرت تامہ اور ربوبیت عامہ کوئی کام نہیں کر سکتی گویا خدا کی قدرتیں اور حکمتیں ہمگی تمامی یہی ہیں جن کو انسان دریافت کر چکا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اعتقادر بوبیت تامہ اور قدرت کاملہ کے مفہوم سے بکلی منافی ہے۔کیونکہ ربوبیت تامہ اور قدرت کاملہ وہ ہے کہ جو اس ذات غیر محدود کی طرح غیر محدود ہے اور کوئی انسانی قاعدہ اور قانون اس پر احاطہ نہیں کر سکتا۔