تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 164

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۴ سورة الفاتحة بنایا ہے یہ خود دنیا کے نیک عملوں کی وجہ سے خدا کو بنانا پڑا۔ورنہ پر میشر خود اپنے ارادہ سے کسی سے نیکی نہیں کر سکتا اور نہ کبھی کی۔اسی طرح خدائے تعالیٰ کو کامل طور پر رحیم بھی نہیں سمجھتے کیونکہ ان لوگوں کا اعتقاد ہے کہ کوئی گنہگار خواہ کیسا ہی بچے دل سے تو بہ کرے اور خواہ وہ سالہا سال تفرع اور زاری اور اعمال صالح میں مشغول رہے خدا اس کے گناہوں کو جو اس سے صادر ہو چکے ہیں ہرگز نہیں بخشے گا جب تک وہ کئی لاکھ جونوں کو بھگت کر اپنی سزا نہ پالے۔جب ہی کسی نے ایک گناہ کیا پھر نہ وہاں تو بہ کام آوے نہ بندگی نہ خوف الہی نہ عشق الہی نہ اور کوئی عمل صالح گویا وہ جیتے جی ہی مر گیا اور خدائے تعالیٰ کی رحیمیت سے بکلی ناامید ہو گیا۔علی ہذا القیاس یہ لوگ یوم الجزاء پر جس کے رو سے خدائے تعالی مالک یوم الدین کہلاتا ہے صحیح طور پر ایمان نہیں رکھتے اور جن طریقوں متذکرہ بالا کے رو سے انسان اپنی سعادت عظمیٰ تک پہنچتا ہے یا شقاوت عظمی میں پڑتا ہے اس کامل سعادت اور شقاوت کے ظہور سے انکاری ہیں اور نجات اُخروی کو صرف ایک خیالی اور وہمی طور پر سمجھ رہے ہیں بلکہ وہ نجات ابدی کے قائل ہی نہیں ہیں اور ان کا مقولہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ کے لئے نہ اس جگہ آرام ہے اور نہ اُس جگہ اور نیز ان کے زعم باطل میں دنیا بھی آخرت کی طرح ایک کامل دار الجزاء ہے۔جس کو دنیا میں بہت سی دولت دی گئی وہ اس کے نیک عملوں کے عوض میں کہ جو کسی پہلے جنم میں اس نے کئے ہوں گے دی گئی ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسی دنیا میں اپنے نفس اتارہ کی خواہشوں کے پورا کرنے میں اس دولت کو خرچ کرے۔لیکن ظاہر ہے کہ اسی جہان میں خدائے تعالیٰ کا کسی کو اس غرض سے دولت دینا کہ وہ اس دولت کو فی الحقیقت اپنے اعمال کی جزاء سمجھ کر کھانے پینے اور ہر طرح کی عیاشی کے لئے آلہ بناوے۔یہ ایک ایسا نا جائز فعل ہے کہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف نسبت کرنا نہایت درجہ کی بے ادبی ہے کیونکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گو یا ہندوؤں کا پر میشر آپ ہی لوگوں کو بدفعلی اور پلیدی میں ڈالنا چاہتا ہے۔اور قبل اس کے جو ان کا نفس پاک ہونفسانی لذات کے وسیع دروازے ان پر کھولتا ہے۔اور پہلے جنموں کے نیک عملوں کا اجر ان کو یہ دیتا ہے کہ پچھلے جنم میں وہ ہر طرح کے اسباب تنتم پا کر اور نفس اتارہ کے پورے پورے تابع بن کر پھر تحت الثریٰ میں جا پڑیں اور ظاہر ہے کہ جس شخص کے خیال میں یہ بھرا ہوا ہے کہ میرے ہاتھ میں جس قدر دولت اور مال اور حشمت اور حکومت ہے یہ میرے ہی اعمال سابقہ کا بدلہ ہے وہ کیا کچھ نفس اتارہ کی پیروی نہیں کرے گا۔لیکن اگر وہ یہ سمجھتا کہ دنیا دار الجزاء نہیں ہے بلکہ دارالا بتلاء ہے اور جو کچھ مجھ کو دیا گیا ہے وہ بطور ابتلاء اور آزمائش کے دیا گیا ہے تا یہ ظاہر کیا