تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 163
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۳ سورة الفاتحة ہے۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے ایک واجب الوجود کے ماتحت اور اس کا محکوم ہے مگر پھر بھی آپ ہی واجب الوجود اور آزاد مطلق اور کسی کا ماتحت نہیں۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے عاجز اور ناتواں ہے مگر پھر بھی عیسائیوں کے بے بنیا د زعم میں قادر مطلق ہے اور عاجز نہیں۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے امور غیبیہ کے بارہ میں نادان محض ہے یہاں تک کہ قیامت کی بھی خبر نہیں کہ کب آئے گی مگر پھر بھی نصرانیوں کے خوش عقیدہ کے رو سے عالم الغیب ہے۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے اور نیز صحف انبیاء کی گواہی سے ایک مسکین بندہ ہے مگر پھر بھی حضرات مسیحیوں کی نظر میں خدا ہے۔اور باوجود اس کے کہ خود اپنے اقرار سے نیک اور بے گناہ نہیں ہے مگر پھر بھی عیسائیوں کے خیال میں نیک اور بے گناہ ہے۔غرض عیسائی قوم بھی ایک عجیب قوم ہے جنہوں نے ضدین کو جمع کر دکھایا اور تناقض کو جائز سمجھ لیا۔اور گوان کے اعتقاد کے قائم ہونے سے میسیج کا دروغ گو ہونا لازم آیا۔مگر انہوں نے اپنے اعتقاد کو نہ چھوڑا۔ایک ذلیل اور عاجز اور نا چیز بندہ کو رب العالمین قرار دیا۔اور رب العالمین پر ہر طرح کی ذلت اور موت اور درد اور دکھ اور تجسم اور حلول اور تغیر اور تبدل اور حدوث اور تولّد کو روا رکھا ہے۔نادانوں نے خدا کو بھی ایک کھیل بنالیا ہے۔عیسائیوں پر کیا حصر ہے ان سے پہلے کئی عاجز بندے خدا قرار دیئے گئے ہیں۔کوئی کہتا ہے رام چندر خدا ہے۔کوئی کہتا ہے نہیں کرشن کی خدائی اس سے قوی تر ہے۔اسی طرح کوئی بدھ کو کوئی کسی کو کوئی کسی کو خدا ٹھہراتا ہے ایسا ہی آخری زمانہ کے ان سادہ لوحوں نے بھی پہلے مشرکوں کی ریس کر کے ابن مریم کو بھی خدا اور خدا کا فرزند ٹھہرالیا۔غرض عیسائی لوگ نہ خداوند حقیقی کو رب العالمین سمجھتے ہیں ندا سے رحمان اور رحیم خیال کرتے ہیں اور نہ جزا سزا اس کے ہاتھ میں یقین رکھتے ہیں بلکہ ان کے گمان میں حقیقی خدا کے وجود سے زمین اور آسمان خالی پڑا ہوا ہے اور جو کچھ ہے ابنِ مریم ہی ہے۔اگر رب ہے تو وہی ہے۔اگر رحمان ہے تو وہی ہے۔اگر رحیم ہے تو وہی ہے۔اگر مالک یوم الدین ہے تو وہی ہے۔ایسا ہی عام ہندو اور آریہ بھی ان صداقتوں سے منحرف ہیں۔کیونکہ ان میں سے جو آریہ ہیں وہ تو خدائے تعالی کو خالق ہی نہیں سمجھتے۔اور اپنی روحوں کا رب اس کو قرار نہیں دیتے۔اور جو ان میں سے بت پرست ہیں وہ صفت ربوبیت کو اس رب العالمین سے خاص نہیں سمجھتے اور تینتیس کروڑ دیوتار بوبیت کے کاروبار میں خدائے تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں اور یہ ہر دو فریق خدائے تعالیٰ کی رحمانیت کے بھی انکاری ہیں اور اپنے وید کے رو سے یہ اعتقادر کھتے ہیں کہ رحمانیت کی صفت ہرگز خدائے تعالیٰ میں نہیں پائی جاتی اور جو کچھ دنیا کے لئے خدا نے