تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 160
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 17۔سورة الفاتحة ہے وہ زیر پردہ اسباب ہے۔جس سے مالک الجزاء کا چہرہ مجوب اور مکتوم ہورہا ہے۔اس لئے یہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الجزاء نہیں ہو سکتا بلکہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الدین یعنی یوم الجزاء وہ عالم ہوگا کہ جو اس عالم کے ختم ہونے کے بعد آوے گا اور وہی عالم تجلیات عظمی کا مظہر اور جلال اور جمال کے پوری ظہور کی جگہ ہے۔اور چونکہ یہ عالم دنیوی اپنی اصل وضع کے رو سے دارالجزاء نہیں بلکہ دار الابتلاء ہے اس لئے جو کچھ عسر و یسر وراحت و تکلیف اور غم اور خوشی اس عالم میں لوگوں پر وارد ہوتی ہے اس کو خدائے تعالیٰ کے لطف یا قہر پر دلالت قطعی نہیں مثلاً کسی کا دولتمند ہو جانا اس بات پر دلالت قطعی نہیں کرتا کہ خدائے تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ کسی کا مفلس اور نادار ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اس پر ناراض ہے بلکہ یہ دونوں طور کے ابتلاء ہیں تا دولتمند کو اس کی دولت میں اور مفلس کو اس کی مفلسی میں جانچا جائے۔یہ چار صداقتیں ہیں جن کا قرآن شریف میں مفصل بیان موجود ہے اور قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ ان صداقتوں کی تفصیل میں آیات قرآنی ایک دریا کی طرح بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور اگر ہم اس جگہ مفصل منی طور پر ان تمام آیات کو لکھتے تو بہت سے اجزاء کتاب کے اس میں خرچ ہو جاتے سو ہم نے اس نظر سے کہ انشاء اللہ عنقریب براہین قرآنی کے موقعہ پر وہ تمام آیات یہ تفصیل لکھے جائیں گے ان تمہیدی مباحث میں صرف سورۃ فاتحہ کے قل و دل کلمات پر کفایت کی۔اب بعد اس کے ہم بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ چاروں صداقتیں کہ جو بین الثبوت اور بدیہی الصدق ہیں ایسے بے نظیر اور اعلیٰ درجہ کے ہیں کہ یہ بات دلائل قطعیہ سے ثابت ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور فرمانے کے وقت یہ چاروں صداقتیں دنیا سے گم ہو چکی تھیں اور کوئی قوم پردہ زمین پر ایسی موجود نہیں تھی کہ جو بغیر آمیزش افراط یا تفریط کے ان صداقتوں کی پابند ہو۔پھر جب قرآن شریف نازل ہوا تو اس کلام مقدس نے نئے سرے ان گمشدہ صداقتوں کو زاویہ گمنامی سے باہر نکالا اور گمراہوں کو ان کے حقانی وجود سے اطلاع دی اور دنیا میں ان کو پھیلایا اور ایک عالم کو ان کے نور سے منور کیا۔لیکن اس بات کے ثبوت کے لئے کہ کیونکر تمام قو میں ان صداقتوں سے بے خبر اور نا واقف محض تھیں یہی ایک کافی دلیل ہے کہ اب بھی دنیا میں کوئی قوم بجز دین حق اسلام کی ٹھیک ٹھیک اور کامل طور پر ان صداقتوں پر قائم نہیں اور جو شخص کسی ایسی قوم کے وجود کا دعویٰ کرے تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔ماسوا اس کے قرآنی شہادت کہ جو ہر یک دوست و دشمن میں شائع ہونے کی وجہ سے ہر یک مخاصم پر حجت ہے اس بات کے لئے ثبوت کافی ہے اور وہ شہادتیں جابجا