تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 156
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة الفاتحة الْأَرْبَعَةَ أُمَّهَاتُ لجميع الصَّفَاتِ اصل ہیں اور بلاشبہ کہ یہ چاروں صفات خدا کی باقی تمام الْمُؤَثِرَةِ الْمُقِيضَةِ وَلا شك أنها مؤثر اور مفیض صفات کے لئے بطور اصل کے ہیں۔اور مُحَرَكَاتُ قَوِيَّةٌ لِقُلُوبِ الدَّاعِيْن۔بلاشبہ یہ دعا کر نیوالوں کے دلوں میں زبردست تحریک پیدا کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۳۹ تا ۱۴۰) کرنے والی ہیں۔( ترجمہ از مرتب ) فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَدَبَّرَ فِي جب انسان خدا تعالیٰ کی ان صفات کے بارہ میں غور صِفَاتٍ جَعَلَهَا اللهُ مُقَدَّمَةً لِدُعَاءِ کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورت فاتحہ کی دُعا کے شروع الْفَاتِحَةِ وَعَلِمَ أَتَهَا مُشْتَمِلَةٌ عَلی میں بیان فرمایا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے کمال اور صِفَاتٍ كَمَالِهِ وَنُعُوْتِ جَلالِهِ بِاِسْتِيفاء اس کے جلال کی تمام صفات اور تناؤں پر مشتمل ہے۔اور ہر الإحاطةِ وَمُحَرَّكَةٌ لأَنْوَاعِ الشَّوْقِ قسم کے شوق اور محبت کے لئے محرک ہے اور یہ بھی جان وَالْمَحَبَّةِ وَعَلِمَ أَنَّ رَبِّه مَبْدَاً تجميع لیتا ہے کہ اس کا رب تمام فیوض کا سرچشمہ ، تمام بھلائیوں کا الْفُيُوضِ وَمَنبع تجميعِ الْخَيْرَاتِ وَدَافِع منبع ، تمام آفات کو دور کرنے والا اور ہر قسم کی جزا سزا کا تجميع الْآفَاتِ وَ مَالِكَ لِكُلِ انواع مالک ہے نیز یہ کہ مخلوق کی ) پیدائش اسی سے شروع ہوئی الْمَجَازَاتِ مِنْهُ يُبْدَأُ الْخَلْقُ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ہے اور آخر کار تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹائی جائیں گی۔كل المَخْلُوقَاتِ وَ هُوَ مُتَزَةٌ عَنِ الْعُيُوبِ اور وہ عیوب ونقائص اور برائیوں سے پاک ہے اور تمام وَالنَّقَائِصِ وَ السَّيِّئَاتِ وَمُسْتَجْمع صفات کمال اور ہر قسم کی خوبیاں اس میں پائی جاتی نِسَائِرِ صِفَاتِ الكَمَالِ وَأَنْوَاعِ ہیں۔تب انسان لازما اللہ تعالیٰ کو ہی تمام ضرورتوں کو پورا الْحَسَنَاتِ فَلَا شَكَ أَنَّهُ يَحْسَبُهُ مُنْجِحَ کرنے والا اور تمام ہلاکتوں سے نجات دینے والا یقین کر جَمِيعِ الْحَاجَاتِ وَ مُنْجِيَّا مِنْ سَائِرِ لیتا ہے۔اور اس کی رضا کی تلاش میں ہر قسم کے مصائب کو الْمُوْبِقَاتِ فَيُعَابِدُ فِي ابْتِغَاء مَرَضَاتِهِ برداشت کرتا ہے۔چاہے وہ نشانہ پر بیٹھنے والے تیر سے قتل كُلَّ الْمَصَالِبِ وَلَوْ قُتِلَ بِالسَّهْمِ کیوں نہ کر دیا جائے رنج وغم اسے بے بس نہیں کر سکتے۔الصَّالِبِ وَلَا يُعْجِرُهُ الْكُرُوبُ وَلَا اور نہ وہ جانتا ہے کہ تھکان کیا ہوتی ہے خدائے محبوب اسے يَدْرِى مَا اللُّغُوبُ وَيَجْزِبُهُ الْمَحْبُوبُ وَ اپنی طرف کھینچتا ہے اور بندہ جانتا ہے کہ وہی (اس کا) w