تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 157
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۷ سورة الفاتحة يَعْلَمُ أَنَّهُ هُوَ الْمَطْلُوبُ ويسر له مطلوب ہے۔اپنے مالک کی رضا حاصل کرنے کے راستوں کی وَيَيُسَرُ لَهُ اسْتِقْرَاهُ الْمَسَالِكَ لِتَطلُّبِ مَرْضَاةِ تلاش اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے لہذا وہ اس کی (طرف الْمَالِكِ فَيُجَاهِدُ فِي سُبُلِهِ وَلَوْ صَارَ لے جانے والی راہوں میں پوری کوشش کرتا ہے خواہ وہ ہلاک كَالْهَالِكِ وَ لَا يَخْشَى هَوْلَ بَلاء وَ کیوں نہ ہو جائے۔اور وہ کسی آزمائش کے خوف سے ڈرتا نہیں۔يَنبَرِى لِكُلِ ابْتِلَاء وَلَا يَبْقَى له من بلکہ ہر ابتلا کے لئے سینہ سپر ہو جاتا ہے اور اس کے لئے اس کی دُونِ حُبِّهِ الْأَذْكَارُ وَ لَا تَسْتَهویه محبت کے تذکرہ کے سوا اور کوئی ذکر باقی نہیں رہتا۔دوسرے الْأَفْكَارُ وَيَنْزِلُ مِن مَّطِيَّةِ الأَهْوَاءِ افکار اسے فریفتہ نہیں کرتے اور وہ خواہشات کی سواری سے اُتر لِيَمْتَطِي أَفْرَاسَ الرّضَاءِ وَ يَغْفِرُ پڑتا ہے تا وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے گھوڑوں پر سوار ہو اور وہ جستجو أَزِمَّةَ الْابْتِغَاءِ لِيَقْطَعَ الْمَسَافَةَ کی باتیں بنتا ہے تا وہ خدا کے حضور پہنچنے کے لئے دُور کی النَّاثِيَةَ لِحَضْرَةِ الكِبْرِيَاءِ وَيَظُلُّ أَبَدًا مسافت طے کرلے اور وہ ہمیشہ اس کے قرب میں رہتا ہے۔اور لَّهُ مُدَانِيَا وَلَا تَجْعَل لَّهُ قَانِیا تین اپنے پیاروں میں سے کسی کو بھی اس کا ثانی نہیں بناتا اور اس کا الْأَحِبَّاءِ وَلَا يَعْتَوِرُ قَلْبُهُ بَيْنَ دل (خدا کے شریکوں ( یعنی معبودان باطلہ ) کے درمیان بھٹکتا الشُّرَكَاءِ وَيَقُولُ يَا رَبِّ تَسَلَّمْ قَلْبِی نہیں پھرتا۔وہ یہی دعامانگتا رہتا ہے کہ اے میرے رب میرے وَ تَكْفِينِي لِجَنبِي وَ جَنبِی وَ لَن دل کو اپنے قبضہ میں محفوظ رکھ۔مجھے اپنی طرف کھینچنے اور مائل کرنے تُصْبِيَنى حُسْنُ الْآخَرِينَ هذہ کے لئے تو کافی ہو جا اور کسی اور کا حسن مجھے بھی فریفتہ نہ کر سکے۔نَتَائِجُ تَمْهِيْدِ دُعَاءِ الْفَاتِحَةِ یہ سب نتائج دُعائے فاتحہ کی عمدہ تمہید ہیں۔( ترجمہ از مرتب ) (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۴۳) جو کچھ خدائے تعالیٰ نے سورۃ ممدوحہ میں رب العالمین کی صفت سے لے کر مالک یوم الدین تک بیان فرمایا ہے یہ حسب تصریحات قرآن شریف چار عالیشان صداقتیں ہیں جن کا اس جگہ کھول کر بیان کرنا قرین مصلحت ہے۔پہلی صداقت یہ کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی عالم کے اشیا میں سے جو کچھ موجود ہے سب کا رب اور مالک خدا ہے۔اور جو کچھ عالم میں نمودار ہو چکا ہے اور دیکھا جاتا ہے یا ٹولا جاتا ہے یا عقل اس پر محیط ہوسکتی ہے وہ سب چیزیں مخلوق ہی ہیں اور ہستی حقیقی بجز ایک ذات حضرت باری تعالیٰ