تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 150
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۰ سورة الفاتحة الْعَالَمَ كُلَّهُ يَشْهَدُ عَلى وُجُودِ هذه وجود پر شہادت دے رہا ہے اور یہ چاروں صفات اس الصِّفَاتِ بِلِسَانِ الْحَالِ وَقَدْ تَجَلَّتْ هذه طور سے جلوہ افروز ہیں کہ کوئی صاحب بصیرت ان میں الصَّفَاتُ بِنَحْوِ لَّا يَشُكُ فِيهَا بَصِيرٌ إِلَّا شک نہیں کر سکتا سوائے اس کے جواندھوں میں سے مَنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَمِينَ۔وَهَذِهِ الصفات ہو اور یہ صفات اس دنیا کے اختتام تک چار ( کی تعداد أَرْبَعُ إِلَى الْقِرَاضِ الشَّاةِ الدُّنْيَوِيَّةِ ثُمَّ میں ہی رہیں گی۔پھر ان ہی میں سے چار اور صفات تَتَجَلُّى الَّتِي تتجلى مِن تَحْيا أَرْبَعُ أُخْرَى اليني من جلوہ گر ہوں گی۔جن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے جہان شَأْتِهَا أَنَّهَا لَا تَظْهَرُ إِلَّا فِي الْعَالَمِ الْآخِرِ میں ہی ظاہر ہوں گی اور ان کی پہلی جلوہ گاہ رب کریم کا وَأَوَّلُ مَطالِعِهَا عَرْشُ الرَّبِ الكَرِيمِ عرش ہوگا۔جو بھی غیر اللہ کے وجود سے آلودہ نہیں ہوا اور الَّذِي لَمْ يَتَدَنَّسُ بِوُجُودِ غَيْرِ الله تعالى وہ عرش پروردگار عالم کے انوار کا مظہر تام ہے۔اور اس وَصَارَ مَظْهَرا تَأَمَّا لِأَنْوَارٍ رَب العالمین کے پائے چار ہیں۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت اور الْعَالَمِينَ وَقَوَائِمُهُ أَرْبَعٌ ذُبُوبِيَّةٌ وَرَحْمَانِيةٌ مالكيت یوم الدین۔اور ظلی طور پر ان چاروں صفات کا وَرَحِيْمِيَّةٌ وَمَالِكِيَّةُ يَوْمِ الدِّينِ وَلَا مکمل طور پر جامع اللہ تعالیٰ کے عرش یا انسان کامل کے جَامِعَ لِهَذِهِ الْأَرْبَعِ عَلَى وَجْهِ الظَّلِيَّةِ إِلَّا دل کے سوا اور کوئی نہیں اور یہ ( چاروں ) صفات اللہ تعالی عَرْشُ اللهِ تَعَالَى وَقَلْبُ الْإِنْسَانِ الْعَامِلِ کی باقی صفات کے لئے اصولی صفات ہیں۔اور وہ اس وَهْذِهِ الصَّفَاتُ أُمَّهَاتُ لِصِفَاتِ اللهِ كُلها عرش کے لئے بمنزلہ پایوں کے ہیں جس پر خدا تعالیٰ وَوَقَعَتْ كَقَوَائِمِ الْعَرْشِ الَّذِي اسْتَوَى مستوى (جلوه گر ) ہے اور خدا کے مستوی ہونے میں اللهُ عَلَيْهِ وَ فى لفظ الإِسْتِوَاءِ إِشَارَةٌ إلى ذات باری تعالیٰ کی صفات کے کامل انعکاس کی طرف هَذَا الْإِنْعِكَاسِ عَلَى الْوَجْهِ الْأَتَم اشارہ ہے جو بہترین خالق ہے۔پھر عرش کا ہر پایہ ایک الْأَكْمَلِ مِنَ اللهِ الَّذِي هُوَ أَحْسَنُ فرشتہ تک پہنچتا ہے جسے وہ اُٹھائے ہوئے ہے اور اسی پایہ الْخَالِقِينَ۔وَتَنْتَبِى كُلُّ قَائِمَةٍ مِنَ الْعَرْشِ کے متعلق امر کا انتظام کرتا ہے۔وہ اس کی تجلیات کے إلى مَلَكٍ هُوَ حَامِلُهَا وَمُدَبِرُ أَمْرِهَا وَمَوْرِدُ پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے اور ان تجلیات کو بحصہ رسدی تَجَلْيَاتِهَا وَ قَاسِمُهَا عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں پر تقسیم کرتا ہے۔وَ الْأَرْضِينَ۔فَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ اللهِ تَعَالٰی پس اللہ تعالیٰ کے قول وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمُ