تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 149

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۹ سورة الفاتحة نَاوَحَ مَهَبٌ نَسِيمِ الرَّحْمَةِ فَسَيَجِدُ حَظًّا | اپنا حصہ پائے گا۔اور اس میں رہتا چلا جائے گا۔اور جو قہر مِنْهَا خَالِدًا فِيهَا وَمَنْ قَابَلَ صَرَاصِر کی تند ہواؤں کی زد میں آ گیا تو وہ ضرور اُن کے تھیڑے الْقَهْرِ فَسَيَقَعُ في صَدَمَاعِهَا وَمَا هَذَا إِلَّا کھائے گا اور یہ مالکیت ہی ہے عدل نہیں جو حقوق کا مقتضی الْمَالِكِيَّةُ لَا الْعَدُلُ الَّذِي يَقْتَضِى ہوتا ہے۔پس تم خوب غور کرو اور دیکھو کہیں غافلوں میں الْحُقُوقَ فَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ _ شامل نہ ہو جانا۔( ترجمہ از مرتب ) کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۱۰ تا ۱۱۶) ثُمَّ اعْلَمُ أَنَّ لِلَّهِ تَعَالَى صِفَاتٍ پھر واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ذاتی ہیں جو ذَاتِيَةً نَّاشِيَةً مِّنَ اقْتِضَاءِ ذَاتِهِ وَعَلَيْهَا اس کی ذات کے تقاضا سے پیدا ہونے والی ہیں اور اُنہیں مَدَارُ الْعَالَمِينَ كُلِّهَا وَهِيَ أَربع زُبُوبِيَّةٌ پر سب جہانوں کا مدار ہے اور وہ چار ہیں۔ربوبیت'۔وَرَحْمَانِيَةً وَرَحِيْمِيَّةً وَمَالِكِيَّةٌ كَمَا أَشَارَ رحمانیت - رحیمیت اور مالکیت۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس اللهُ تَعَالَى إِلَيْهَا في هَذِهِ السُّورَةِ وَقَالَ سورت میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے رپ رَبَّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ الْعَلَمِينَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ يَوْمِ الدِّينِ فَهَذِهِ الصَّفَاتُ الذَّاتِيَّةُ پس یہ ذاتی صفات ہر چیز پر سبقت رکھتی ہیں اور ہر چیز پر سَابِقَةٌ عَلى كُلِّ شَيني ومحيطةٌ بِكُلّ شَني محيط ہیں۔تمام اشیاء کا وجود، ان کی استعداد یں، ان کی وَمُحِيْطَةٌ وَمِنْهَا وُجُودُ الْأَشْيَاءِ وَاسْتِعْدَادُهَا قابلیت اور ان کا اپنے کمالات کو پہنچنا انہیں (صفات ) کے۔وَقَابِلِيعُها وَوُصُولُهَا إِلى كَمَالَاتِنَا وَأَمَّا ذریعہ سے ہے لیکن غضب کی صفت خدا کی ذاتی صفت صِفَةُ الْغَضَبِ فَلَيْسَتْ ذَا تِيَةٌ لِلهِ تَعَالَی نہیں ہے بلکہ وہ بعض موجودات کے مطلقا کمال قبول نہ بَلْ هِيَ نَاشِيَةٌ مِنْ عَدَمِ قَابِلِيَّةِ بَعْضٍ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح گمراہ الْأَعْيَانِ لِلْكَمَالِ الْمُطَلَقِ وَكَذَلِكَ ٹھہرانے کی صفت کا ظہور بھی گمراہ ہونے والوں میں کبھی صِفَةُ الْإِضْلَالِ لَا يَبْدُو إِلَّا بَعْدَ زَيْغ پیدا ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔لیکن صفات مذکورہ کا حصر الضَّالِّينَ وَأَمَّا حَضُرُ الصِّفَاتِ چار کے عدد میں اس عالم کو مد نظر رکھ کر ہے جس میں ان الْمَذْكُورَةِ فِي الْأَرْبَعِ فَنَظَرًا عَلَى الْعَالَمِ صفات کے آثار پائے جاتے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ الَّذِي يُوجَدُ فِيْهِ أَثَارُهَا۔أَلَا تَرَى أَنَّ عالَم سارے کا سارا بزبانِ حال ان (چاروں ) صفات کے