تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 148
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۸ سورة الفاتحة الْمُتَفَكِّرِيْنَ وَإِنْ قُلْتَ لِمَ قال الله | اس کے ستارہ کے غروب ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔اور مالکیت تَعَالَى فِي هَذَا الْمَقَامِ مَالِكِ يَوْمِ ایک لطیف عالم ہے۔جس کے اسرار نہایت دقیق ہیں اور اس الدِّينِ وَمَا قَالَ عَادِلٍ يَوْمِ الدین کے انوار بہت زیادہ ہیں۔اس میں غور و فکر کرنے والوں کی عقل فَاعْلَمْ أَنَّ الشعر في ذلك أن العدل دنگ رہ جاتی ہے۔اور اگر تم پوچھو کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ملک لا يَتَحَقِّقُ إِلَّا بَعْدَ تَحَقِّقِ الْحُقوقِ يَوْمِ الدِّينِ کیوں کہا اور عَادِلِ يَوْمِ الدِّينِ ( کیوں) نہیں وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْ حَقٍ عَلَى اللهِ رَبّ کہا تو واضح ہو کہ اس میں بھید یہ ہے کہ عدل کا تصور اس وقت تک الْعَالَمِينَ۔وَنَجَاةُ الْآخِرَةِ مَوْهَبَةٌ نہیں ہو سکتا جب تک حقوق کو تسلیم نہ کر لیا جائے اور جہانوں کے منَ اللهِ تَعَالَى لِلَّذِينَ آمَنُوا بِه و پروردگار خدا پر تو کسی کا کوئی حق نہیں اور آخرت کی نجات خدا سَارَعُوا إِلَى امْتِثَالِهِ وَتَقَبلِ أَحْكامِه تعالی کی طرف سے ان لوگوں کے لئے محض ایک عطیہ ہے جو اس وَ عِبَادَتِهِ وَ مَعْرِفَتِهِ بِسُرعة پر ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی اطاعت کرنے اور اس کے مُعْجِبَةٍ كَأَنَّهُمْ كَانُوا في نَجَاءِ احکام کو قبول کرنے ، اس کی عبادت کو بجالانے اور اس کی معرفت حَرَكَاتِهِمْ وَمَسَالح غَدَوا تہم حاصل کرنے کے لئے حیران کن تیزی سے قدم بڑھایا گویا وہ غَدَوَاتِهِمُ وَرَوْحَاتِهِمْ مُمْتَطِينَ عَلی هَوْجَاءَ اپنی حرکات کی تیزی میں اور صبح وشام کے سفروں میں تیز رفتار اور شِمِلَّةٍ وَ نُوْقٍ مُّشْعِلَّةٍ وَإِن لَّمْ تیز گام اونٹنیوں پر سوار تھے اور گو وہ اطاعت کے معاملہ کو پورے يُتِمُّوا أَمْرَ الْإِطَاعَةِ وَمَا عَبَدُوا کمال تک نہ پہنچا سکے اور نہ عبادت کا پورا حق ادا کر سکے ہوں اور حَقَّ الْعِبَادَةِ وَمَا عَرَفُوا حَقٌّ نہ ہی معرفت کی حقیقت کو پوری طرح پاسکے ہوں لیکن ان باتوں الْمَعْرِفَةِ وَلَكِن كَانُوا عَلَيْهَا حَرِيصِينَ کے حصول کے شدید خواہشمند رہے ہوں۔اور اسی طرح وہ لوگ وَكَذَلِكَ الَّذِينَ عَصَوْا رَبَّهُمْ وَإِن جنہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔اگر چہ ان کی بدبختی اپنی لَّمْ تَبْلُغَ شِقْوَتُهُمْ مَدَاهَا وَلكن انتہا کو نہیں پہنچی لیکن وہ اس ( بد بختی ) کی طرف تیزی سے بڑھتے كَانُوا إِلَيْهَا مُسَارِعِينَ وَكَانُوا رہے، بُرے عمل کرتے رہے اور بدی کرنے پر اپنی جرات میں يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ وَيَزِيدُونَ في ترقی کرتے گئے اور وہ ( ہدی کے کاموں سے ) رکنے والے نہ جَرَاءَاتِهِمْ وَمَا كَانُوا مِن تھے۔پس (ایسے لوگوں میں سے ) ہر شخص اپنی اپنی نیت کے الْمُنْتَهِينَ۔فَكُلُّ تَرى مَا كَانَ في مطابق اللہ تعالیٰ کی رحمت یا اس کا قہر دیکھے گا۔پس جس نے اپنا نِيَّتِهِ رَحْمَةً مِّنَ اللهِ أَوْ قَهْرًا فَمَنْ رُخ ادھر پھیرا جدھر سے نسیم رحمت آرہی ہو تو وہ ضرور رحمت سے