تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 144
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ سورة الفاتحة عَقُلْ سَلِيمٌ أَوْ كَانَ مِنَ الْمَعْذُورِينِ وَ بھی دعوی ہے کہ مسیح پر ایمان نہ لانے والے پر نجات کے زَعَمُوا أَنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يَغْفِرُ أَحَدًا إِلَّا بَعْد دروازے بند ہیں۔اور محض اعمال سے مغفرت تک پہنچنے إيْمَانِهِ بِالْمَسِيحِ وَ زَعَمُوا أَنَّ أَبْوَابَ کا کوئی امکان نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ عادل ہے اور النّجاة مُعْلَقَةً لِغَيْره وَ لا سَبِيلَ إلى عدل اس بات کا مقتضی ہے کہ جو بھی گنہ گار اور مجرم ہو الْمَغْفِرَةِ بِمُجَرَّدِ الْأَعْمَالِ فَإِنَّ اللهَ عَادِلٌ اس کو سزا دی جائے۔پس جب اس بارہ میں کامل مایوسی وَالْعَدُلُ يَفْتَعِى أَنَّ يُعَذِّبَ مَنْ كَانَ واضح ہوگئی کہ لوگ اپنے اعمال کے ذریعہ ( گناہوں مُنْذِبًا وَ كَانَ مِنَ الْمُجْرِمِينَ فَلَمَّا سے) پاک ہو سکیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ بیٹے کو بھیجا حَصْحَصَ الْيَأْسُ مِنْ أَنْ تَظهر النَّاسُ تا وہ لوگوں کے ( گناہ کے بوجھ اپنی گردن پر اُٹھالے بِأَعْمَالِهِمْ أَرْسَلَ اللهُ اللهُ الظَّاهِرَ لِيَزِر اور پھر صلیب دیا جائے۔اور اس طرح لوگوں کو ان کے وِزْرَ النَّاسِ عَلى عُنُقِهِ ثُمَّ يُصَلُّبَ وَيُنَغِی ( گناہ کے بوجھوں سے نجات دلائے۔پس خدا کا بیٹا النَّاسَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ فَجَاءَ الْإِبْنُ وَقُتِلَ آیا اور وہ خود قتل ہوا اور عیسائیوں نے نجات پائی اور وہ وَلَجَى النَّصَارَى فَدَخَلُوا في حدایق نجات کے باغیچوں میں خوش و خرم داخل ہو گئے۔یہ ان کا النَّجَاةِ فَرِحِيْنَ۔هَذِهِ عَقِيدَهُهُمْ وَلكن عقیدہ ہے لیکن جو شخص عقل کی آنکھ سے اس عقیدہ مَنْ تَقَدّهَا بِعَيْنِ الْمَعْقُولِ وَوَضَعَهَا عَلی کو پر کھے اور اسے تحقیقات کی کسوٹی پر کسے تو وہ اسے محض مخيَارِ التَّحْقِيقَاتِ سَلَكَهَا مَسْلَكَ غير معقول باتوں کا سلسلہ قرار دے گا۔اگر تُو (اس عقیدہ الْهَدْيَانَاتِ۔وَ إِنْ تَعْجَبْ فَمَا تَجِدُ أَعْجَب پر) تعجب کرے( تو بجا ہے ) کیونکہ تو ان کے اس دعویٰ مِن قَوْلِهِمْ هَذَا لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ الْعَدْلَ سے زیادہ عجیب بات اور کہیں نہیں پائے گا۔وہ نہیں أَهَمُّ وَأَوْجَبْ مِنَ الرَّحيمِ فَمَن تَرَكَ جانتے کہ عدل ان معنی میں کہ بے گناہ کو سزا نہ دی المُذيب وَأَخَذَ الْمَعْصُومَ فَفَعَلَ فِعْلًا ما جائے ) رحم سے بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے۔پس جو بقى مِنْهُ عَنل ولا رحم وَمَا يَفْعَلُ مِثْل گناہگار کو چھوڑ دے اور بے گناہ کو سزا دے اس نے ایک ذلِك إِلَّا الَّذى هُوَ أَضَلُّ مِنَ الْمَجَانِينَ۔ایسا فعل کیا جس سے نہ عدل باقی رہ گیا اور نہ رحم اور ایسا ثُمَّ إِذَا كَانَتِ الْمُؤَاخَذَاتُ مَشْرُوطَةٌ کام سوائے اس کے کوئی نہیں کر سکتا جو پاگلوں سے بھی گیا بِوَعْدِ اللهِ تَعَالَى وَوَعِيْدِهِ فَكَيْفَ يَجُوزُ گزرا ہو۔پھر جبکہ مواخذہ خدا تعالیٰ کے وعدہ اور وعید کے