تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 145

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۵ سورة الفاتحة تَعْذِيبَ أَحَدٍ قَبْلَ إِشَاعَةِ قَانُونِ | ساتھ مشروط ہے تو پھر ضابطہ احکام کی اشاعت اور اس کے الْأَحْكَامِ وَتَشْبِيْدِهِ وَكَيْفَ يَجُوزُ أَخُذُ استحکام سے قبل کسی کو سزا دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اور الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ عِندَ صُدُورِ پھر کسی معصیت کے سرزد ہونے پر پہلوں، پچھلوں کو گرفت مَعْصِيَةٍ مَّا سَبَقَهَا وَعِيْدُ عِندَ کرنا کس طرح جائز ہے۔جبکہ اس سے پہلے یہ وعید موجود نہ ارْتِكَابِهَا وَمَا كَانَ أَحَدٌ عَلَيْهَا مِن ہو کہ مرتکب کو گرفت ہوگی حالانکہ اس سے پہلے اس کے معصیت ہونے پر کسی کو اطلاع نہ تھی۔المطلعين۔ر فَالْحَقُ أَنَّ الْعَدْلَ لا يُوجَدُ أَثَرَهُ إِلَّا سچی بات تو یہ ہے کہ عدل کا وجود پایا نہیں جاتا مگر خدا تعالیٰ بَعْدَ نُزُولِ كِتَابِ اللهِ وَ وَعْدِهِ وَوَعِيدِہ کی کتاب اس کے وعدہ اور اس کی وعید اس کے احکام اور اس وَ أَحْكامِه وَحُدُودِهِ وَ شَرَآيْطه و کی حدود اور اس کی شرائط کے نزول کے بعد۔اور اللہ تعالیٰ کی إضَافَةُ الْعَدْلِ الْحَقِيقي إلى الله تعالى طرف عدل حقیقی کی اضافت قطعا خلاط اور بے بنیاد ہے۔بَاطِلْ لَّا أَصْلَ لَهَا لأَنَّ الْعَدْلَ لا کیونکہ عدل کا تصورتب ہو سکتا ہے جب اس سے پہلے حقوق يُتَصَوَّرُ إِلَّا بَعْدَ تَصَوُّرِ الْحُقوقِ وَ کا تصور کیا جائے اور ان کے وجوب کو تسلیم کر لیا جائے مگر تَسْلِيْهِ وُجُوبِهَا وَلَيْسَ لِأَحَدٍ حَقٌّ عَلى رب العالمین پر تو کسی کا کوئی حق نہیں ہو سکتا۔کیا تم نہیں دیکھتے رَبِّ الْعَالَمِينَ أَلا ترى أَن الله سحر کہ اُس نے ہر حیوان کو انسان کی خدمت میں لگایا ہوا ہے؟ كُلَّ حَيَوَانِ لِلإنْسَانِ وَأَبَاحَ دِمَاتَها اس کی ادنیٰ ضرورت کے لئے بھی اس کا خون بہانے کو جائز لأَدْنَى ضُرُورَتِهِ فَلَوْ كَانَ وُجُوبَ الْعَدْلِ رکھا ہے۔اگر عدل کو بطور حق کے اللہ کے ذمہ واجب قرار دیا حَقًّا عَلَى اللهِ تَعَالَى لَمَا كَانَ لَهُ سَبِیل جائے تو پھر اس کے لئے ایسے احکام کے جاری کرنے کا کوئی لإِجْرَاءِ هَذِهِ الْأَحْكَامِ وَإِلَّا فَكَانَ مِن موقعہ نہیں تھا ورنہ اس کا شمار ظالموں میں ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ الْجَاثِرِينَ وَلكِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ في اپنی بادشاہت میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔وہ جسے چاہے مَلَكُوتِهِ يُعِزُّ مَنْ يَشَاءُ وَيُذِلُّ مَن عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔جسے چاہے يَشَاءُ وَ يُحْيِي مَن يَشَاءُ وَ يُميتُ مَن زندہ رکھتا ہے اور جسے چاہے موت دیتا ہے جسے چاہے وہ بلند يَشَاءُ يَرْفَعُ مَن يَشَاءُ وَيَضَعُ مَن يَشَاءُ کرتا ہے اور جس کو چاہے پست کر دیتا ہے مگر حقوق کے وجود کا وَ وُجُوْدُ الْحُقُوقِ يَقْتَضِى خلاف ذلك تقاضا اس سے الٹ ہے بلکہ یہ تو اس کے ہاتھ کو باندھ دیتا