تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 143
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۳ سورة الفاتحة اخْتِرَاهُ الْأَحِبَّةِ مَوْتَ أَنْفُسِهِمْ | جانے پر کانپ اٹھتے ہیں۔دوستوں کی موت سے اپنی موتوں کو فَيَتُوبُونَ إِلَى اللهِ وَهُمْ فین یاد کرتے ہیں۔اپنے ہم عمر ساتھیوں پر مٹی ڈالنا انہیں خوف دلاتا الصَّالِحِينَ۔فَلَعَلَّكَ فَهِمْتَ أَنَّ هَذَا ہے۔پس وہ ان کے غم سے جلتے ہیں اور خود ہوشیار ہو جاتے الْفَيْضَانَ يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ عَلی ہیں۔دوستوں کی مفارقت انہیں اپنی موت ( کا نظارہ) شَرِيطَةِ الْعَمَلِ وَ التَّوَرعِ وَ السَّمت دکھا دیتی ہے۔پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور الصَّالِحَةِ وَالتَّقْوَى وَ الْإِيْمَانِ وَلَا نیکو کار بن جاتے ہیں۔اب شاید تم سمجھ گئے ہو گے کہ اس فیضان وُجُودَ لَهُ إِلَّا بَعْدَ وُجُودِ الْعَقلِ کا آسمان سے نازل ہونا عمل (صالح) پر ہیز گاری، راست وَالْفَهْمِ وَبَعْدَ وُجُودِ كِتَابِ الله روی، پارسائی اور ایمان کے ساتھ مشروط ہے اس فیض کا وجود تَعَالَى وَحُدُودِهِ وَأَحْكامِه وَكَذلِك عقل اور فہم کے وجود اور کتاب اللہ اور اس کی حدود اور احکام الْمَحْرُومُونَ مِنْ هَذِهِ النّعْمَةِ لاَ کے نازل ہونے کے بعد ممکن ہے۔اسی طرح جو لوگ اس نعمت ، يَسْتَحِقُونَ عِتَابًا وَ مُؤَاخَذَةً من سے محروم ہیں وہ ان شرائط (کے پورا ہونے ) سے قبل کسی عتاب ل کسی مقاب یا مؤاخذہ کے مستحق نہیں ٹھہرتے۔قَبْلِ هَذِهِ الشَّرَآئِطِ فَظَهَرَ أَنَّ الرَّحِيمِيَّةَ تَوہم لہذا ظاہر ہو گیا کہ رحیمیت کی صفت اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کی لْكِتَابِ اللهِ وَتَعْلِيمِهِ وَتَفهِيْمِهِ فَلا تعلیم و تفہیم کی تو ام ہے۔اور اس ( کتاب اللہ کے نزول ) سے قبل يُؤْخَذُ أَحَدٌ قَبْلَهُ وَلَا يُدْرِكُ أَحَدًا کسی پر گرفت نہیں ہوتی اور نہ کسی پر اللہ تعالیٰ کا شدید غضب نہ عَطَبُ الْقَهْرِ إِلَّا بَعْد ظهور هذه نازل ہوتا ہے جب تک یہ رحیمیت ظاہر نہ ہو۔کسی بد کار انسان الرَّحِيهِيَّةِ وَلَا يُسْأَلُ فَاسِقٌ عَن سے اس کی بدکاری کے متعلق مؤاخذہ اس کے بعد ہی ہوگا۔پس فِسْقِهِ إِلَّا بَعْدَهَا فَخَذْ هَذَا الشر یہ بھید کی بات مجھ سے سمجھ لے اور یہ عیسائیوں کی زبر دست تردید ميني وَهُوَ رَةٌ عَلَى الْمُتَنَظِرِينَ فَإِنَّهُمْ ہے کیونکہ وہ تو آدم سے لے کر دنیا کے خاتمہ تک گناہ کی نیش زنی قَاتِلُونَ بِلَسْعِ الذَّنْبِ مِن ادم إلی کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر انسان گنہ گار ہے خواہ اُسے خدا تعالیٰ انْقِطَاعِ الدُّنْيَا وَيَقُولُونَ إِن كُلّ کی کتاب پہنچی ہو اور اُسے عقل سلیم عطا ہوئی ہو یا وہ معذوروں عَبْدٍ مُنْذِبٌ سَوَاءٌ عَلَيْهِ بَلَغَہ میں سے ہو اور ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام كتاب من الله تعالى وَأُعْطِىَ لَهُ ) کی صلیبی موت) پر ایمان لائے بغیر کسی کو نہیں بخشا اور ان کا یہ