تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 139
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ سورة الفاتحة طَبْعًا فَلَيْسَ هَذَا التَّقْدِيمُ مَحدُودًا في | یہ ترتیب محض کلام کو سجانے اور سلاست وروانی کے پیش تَوْشِيَةِ الْكَلَامِ وَتَحْصُورًا في رِعَايَةِ الصَّفَاءِ نظر ہی نہیں بلکہ اس میں تو حکیمانہ بلاغت سے نظام الثَّامِ بَلْ هِيَ بَلاغَةُ حِكْمِيَّةُ لاِرائَةِ کائنات کو دکھانا مقصود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقوال اس النّظامِ مِنْ حَيْثُ إنّه تَعَالى جَعَلَ أَقْوَالہ کے ان افعال کے دکھانے کے لئے آئینہ ہیں جو اس کی مِرا ةٌ لِرُؤْيَةِ أَفْعَالِهِ الْمَوْجُوْدَة في طبقات مخلوق کے مختلف طبقات میں ( بلحاظ ترتیب ) موجود ہیں تا الْأَنَامِ لِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُ الْعَارِفِينَ اس سے عارفوں کے دل تستی پائیں۔وَالْقِسْمُ القَالي من الصفاتِ ان صفات فیضانیہ کی دوسری قسم وہ صفت ہے جس کا الْفَيْضَانِيَّةِ صِفَةٌ يُسَيِّيهَا رَبُّنَا الرَّحْمنِ نام ہمارا پروردگار ” الرحمان“ رکھتا ہے۔پس ضروری وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ نُسَمّى فَيُضَانَهُ فَيُضَانًا عَامَّا ہے کہ ہم بھی اس فیضان کو فیضان عام اور رحمانیت کے وَرَحْمَانِيَّةٌ۔وَلَهُ مَرْتَبَةٌ بَعْدَمَرْتَبَةِ الْفَيْضَانِ نام سے پکاریں۔اس کا مرتبہ فیضان اعم ( ربوبیت ) الْأَعْةِ وَهُوَ أَخَصُّ مِنَ الْفَيْضَانِ الْأَوَّلِ وَ کے بعد ہے اور اس فیضان کا دائرہ عمل اُس پہلے فیضان لا يَنْتَفِعُ مِنْهُ إِلَّا ذَوُو الرُّوحِ مِنْ أَشْيَاء سے اخص ہے اور اس سے آسمان اور زمینوں کی صرف السَّمَاءِ وَالْأَرْضِينَ۔وَإِنَّ اللهَ فِي وَقْتِ هَذَا جاندار اشیاء ہی نفع حاصل کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے الْفَيْضِ لَا يَنظُرُ الْإِسْتِحْفَاقَ وَالْعَمَلَ اس فیض کے وقت کسی خاص حق عمل یا شکر کو نہیں دیکھتا وَالشُّكْرَ بَلْ يُنَزِّلُهُ فَضْلاً مِّنْهُ عَلَى كُلّ ذِى بلکہ وہ محض اپنے فضل سے ہر ذی روح پر اس فیضان کو رُوحِ إِنْسَانًا كَانَ أَوْ حَيَوَانًا فَجَنُونًا كَانَ أَوْ جاری رکھتا ہے چاہے وہ انسان ہو یا حیوان۔دیوانہ ہویا عَاقِلاً مُؤْمِنًا كَانَ أَوْ كَافِرًا ويُنجى كُلّ رُوج عاقل ، مومن ہو یا کافر، اور ہر روح کو ہلاکت سے بچاتا مِنْ هَلَكَةٍ دَانَتْ مِنْهَا بَعْدَ مَا كَادَتْ ہوتی ہے جو اس کے قریب پہنچ چکی ہو اور وہ (روح) اس میں فِيهَا وَيُعْطِي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقًا يَنْفَعُهُ لِأَنَّ اللهَ گرنے ہی لگی ہو اور ہر شے کو ایسی شکل وصورت عطا کرتا جَوَادٌ بِالذَّاتِ وَلَيْسَ بِضَنِينِ۔فَكُلُّ ما ہے جو اس کے لئے مفید ہو کیونکہ اللہ تعالی بالذات سخی ترى في السَّمَاءِ مِنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ہے اور ہر گز بھیل نہیں اور جو کچھ تمہیں آسمان میں نظر آتا وَالنُّجُومِ وَالْمَطَرِ وَالْهَوَاءِ وَمَا تَرى في ہے مثلاً سورج ، چاند، ستارے، بارش اور ہوا اور جو کچھ الْأَرْضِ مِنَ الْأَنْهَارِ وَالْأَشْجَارِ وَ الْأَثْمَارِ وَ زمین میں نظر آ رہا ہے مثلاً نہریں ، درخت اور پھل،۔