تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 136
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ سورة الفاتحة تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفتِ تامہ تک پہنچ گئے۔اور فقرہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فقره ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے مقابل پر واقع ہے اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّايِّينَ کا ورد کرنے والا چشمہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ سے فیض طلب کرتا ہے۔اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جزا و سزا کے دن کے مالک ہمیں اس سزا سے بچا کہ ہم دنیا میں یہودیوں کی طرح طاعون وغیرہ بلاؤں میں تیرے غضب کی وجہ سے مبتلا ہوں یا نصاری کی طرح نجات کی راہ گم کر کے آخرت میں عذاب کے مستحق ہوں۔اس آیت میں نصاریٰ کا نام ضالین اس لئے رکھا ہے کہ دنیا میں ان پر کوئی غضب الہی کا عذاب نازل نہیں ہوا صرف وہ لوگ اُخروی نجات کی راہ گم کر بیٹھے ہیں اور آخرت میں قابل مؤاخذہ ہیں۔مگر یہود کا نام مغضوب علیہم اس واسطے رکھا ہے کہ یہود پر دنیا میں ہی اُن کی شامت اعمال سے بڑے بڑے عذاب نازل ہوئے ہیں۔منجملہ اُن کے عذاب طاعون ہے چونکہ یہود نے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں اور راستباز بندوں کی صرف تکذیب نہیں کی بلکہ بہتوں کو ان میں سے قتل کیا یا قتل کا ارادہ کیا اور بد زبانی سے بھی بہت تکلیفیں پہنچاتے رہے اس لئے غیرتِ الہی نے بعض اوقات جوش میں آکر اُن کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کیا۔بسا اوقات لاکھوں یہودی طاعون کے عذاب سے مارے گئے اور کئی دفعہ ہزاروں اُن میں سے قتل کئے گئے اور یا اسیر ہو کر دوسرے ملکوں میں نکالے گئے۔غرض وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ہمیشہ مغضوب علیہم رہے چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ ایک ٹیڑھی قوم ہے اس لئے توریت میں اکثر دنیا کے عذابوں سے ان کو ڈرایا گیا تھا۔غرض اُن پر ہولناک طور پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا رہا کیونکہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو ہاتھ اور زبان سے دکھ دیتے تھے اسی وجہ سے دنیا میں ہی ان پر غضب بھڑکا تا وہ ان لوگوں کے لئے نمونہ عبرت ہوں کہ جو آئندہ کسی زمانہ میں خدا کے ماموروں اور راست باز بندوں کو عمداً دُکھ دیں اور اُن کو ستاویں اور اُن کے قتل کرنے یا ذلیل کرنے کے لئے بدا را دے دل میں رکھیں۔سو اس دعا کے سکھلانے میں در پردہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ تم یہودیوں کے خُلق اور خو سے باز رہو اور اگر کوئی مامور من اللہ تم میں پیدا ہوتو یہودیوں کی طرح اُس کی ایذا اور توہین اور تکفیر میں جلدی نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ تم بچے کو جھوٹا ٹھہرا کر اور پھر طرح طرح کے دُکھ اس کو دے کر اور بد زبانی سے اس کی آبروریزی کر کے یہودیوں کی طرح مورد غضب الہی ہو جاؤ لیکن افسوس کہ اس اُمت کے لوگ بھی ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے اور انہوں نے بدقسمت یہودیوں کے قصوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ایام الصلح - روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۵۲ تا ۲۵۴)