تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 137
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۷ سورة الفاتحة ان آیات سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا جس نے اللہ کے نام سے قرآن میں اپنے تئیں ظاہر کیا وورب العالمین ہو کر مبدء ہے تمام فیضوں کا اور رحمان ہو کر معطی ہے تمام انعاموں کا۔اور رحیم ہو کر قبول کرنے والا ہے تمام خودمند دعاؤں اور کوششوں کا اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہو کر بخشنے والا ہے کوششوں کے تمام آخری ثمرات کا۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۶ حاشیه ) رَبُّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔۔۔۔۔۔۔یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۶،۳۷۵) فَاعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ الصَّفَاتِ عُيُون واضح ہو کہ یہ چاروں ) صفات (یعنی رب العالمین، )صفات(یعنی ربُّ لِفُيُوْضِ الله الكامِلَةِ النَّازِلَةِ عَلى الرحمن الرحیم اور مالک یوم الدین ) اللہ تعالیٰ کے کامل فیوض أَهْلِ الْأَرْضِ وَ السَّمَاءِ وَ كُلُّ صِفَةٍ کے چشمے ہیں جو زمین و آسمان میں رہنے والوں پر نازل مَّنْبَعٌ لِقِسْمِ فَيْضِ بِتَرْتِيبِ أَوْدَعَ ہوئے اور ہر صفت ایک خاص قسم کے فیض کا منبع ہے ( اور یہ اللهُ أَثَارَهَا فِي الْعَالَمِ لِيُرِى تَوَافَقَ صفات) ایک ایسی ترتیب کے ساتھ ( بیان کی گئی ہیں ) جس قَوْلِهِ بِفِعْلِهِ وَ لِيَكُونَ آيَةٌ کے آثار خدا تعالیٰ نے (اس کا رخانہ ) عالم میں ودیعت کر لِلْمُتَفَكِرِينَ فَالْقِسْمُ الْأَوَّلُ مِن رکھے ہیں۔تا وہ اپنے قول کا اپنے فعل سے تو افق دکھائے اور تا أَقْسَامِ الصِّفَاتِ الْفَيْضَانِيَّةِ صِفَةٌ غور و فکر کرنے والوں کے لئے یہ ایک نشان ہو۔ان فیضانی يسَيْيْهَا رَبُّنَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَ هذه صفات کی اقسام میں سے پہلی قسم وہ صفت ہے جس کا نام ہمارا الصَّفَةُ أَوْسَعُ الصَّفَاتِ في الإفاضَة پروردگار رب العالمین رکھتا ہے اور یہ صفت فیض رسانی میں وَلَا بُدَّ مِن أَن تُسَمّى فَيْضاتها دوسری تمام صفات سے زیادہ وسیع ہے اسی لئے ضروری ہے فَيْضَانًا أَعَمَّ لأَنَّ صِفَةَ الرُّبُوبِيَّةِ قَد کہ ہم اس صفت کے فیضان کا نام فیضانِ اہم رکھیں۔کیونکہ أَحَاطَتِ الْحَيَوَانَاتِ وَغَيْرَ الْحَيَوَانَاتِ صفت ربوبیت تمام حیوانوں اور غیر حیوانوں پر ہی حاوی نہیں بَلْ أَحَاطَتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِينَ بلکہ آسمانوں اور زمینوں پر محیط ہے اور اس کا فیضان ہر فیض فَيْضَاتُهَا أَعَمُّ مِنْ كُلِّ فَيْض ما سے زیادہ عام ہے جس نے نہ کسی انسان کو چھوڑا اور نہ کسی غَادَرَ إِنْسَانًا وَلَا حَيَوَانًا وَلَا شَجرًا ولا حیوان کو، نہ کسی درخت کو اور نہ کسی پتھر کو اور نہ کسی آسمان کو نہ