تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 135
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۵ سورة الفاتحة رحیمیت ہی ایک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ سے باقی تمام صفات پر یقین بڑھتا اور کمال تک پہنچتا ہے۔وجہ یہ کہ جب ہم خدا تعالیٰ کی رحیمیت کے ذریعہ سے اپنی دعاؤں اور تفرعات پر الہی فیضوں کو پاتے ہیں اور ہر ایک قسم کی مشکلات حل ہوتی ہیں تو ہمارا ایمان خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی قدرت اور رحمت اور دوسری صفات کی نسبت بھی حق الیقین تک پہنچتا ہے اور ہمیں چشم دید ماجرا کی طرح سمجھ آ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ در حقیقت محمد اور شکر کا مستحق ہے اور در حقیقت اس کی ربوبیت اور رحمائیت اور دوسری صفات سب درست اور صحیح ہیں لیکن بغیر رحیمیت کے ثبوت کے دوسری صفات بھی مشتبہ رہتی ہیں۔99191 لصد ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۲ تا ۲۴۴) واضح رہے کہ اللہ جل شانہ نے سورہ فاتحہ میں الحمد لله کے بعد ان صفات اربعہ کو چار سر چشمہ فیض قرار دے کر اس سورۃ کے مابعد کی آیتوں میں بطور لت و نشر مرتب ہر ایک چشمہ سے فیض مانگنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔چنانچہ ظاہر ہے کہ فقرہ الْحَمْدُ لِلهِ سے فقرہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک پانچ جُدا جدا امر ہیں۔(۱) اَلْحَمْدُ لِلهِ (۲) دوسرے رَبُّ الْعَلَمِينَ (۳) تیسرے الرَّحْمَنُ (۴) چوتھے الرَّحِيمُ (۵) مَلِكِ يَوْمِ الدِّینِ اور مابعد کے پانچ فقرے ان پانچوں کے لحاظ سے بصورت لف ونشر مرتب ان کے مقابل پر واقع ہیں۔جیسا کہ فقرہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ فقرہ الْحَمْدُ لِله کے مقابل پر ہے جس سے یہ اشارہ ہے کہ عبادت کے لائق وہی ذات کامل الصفات ہے جس کا نام اللہ ہے اور فقرہ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ فقرہ رَبُّ الْعَلَمِينَ کے مقابل پر واقع ہے جس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ سر چشمہ ، ربوبیت سے جو ایک نہایت عام سر چشمہ ہے ہم مدد طلب کرتے ہیں کیونکہ بغیر خدا تعالیٰ کے فیض ربوبیت کے ظاہری یا باطنی طور پر نشو نما پانا یا کوئی پاک تبدیلی حاصل کرنا اور روحانی پیدائش سے حصہ لینا امر محال ہے۔اور فقرہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ نقره الرحمن کے مقابل پر واقع ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا ورد کرنے والا الرحمن کے چشمہ سے فیض طلب کرتا ہے۔کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ دولت حاصل ہوتی ہے۔اور فقره صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فقره الرَّحِيمُ کے مقابل پر واقع ہے۔اور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا ورد کرنے والا چشمہ الرّحیم سے فیض طلب کرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے دعاؤں کو رحم خاص سے قبول کرنے والے ! ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی راہ ہمیں دکھلا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائگی دعا اور