تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 134

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة الفاتحة ظاہر کرے گا۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہو کر آیا ہوں چاہو تو قبول کرو چاہوتو رڈ کرو۔الحکم نمبر ۳۴ جلد ۵ ، مورخه ۷ ار تمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱) خدا تعالیٰ کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُم الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے اور وہ چاڑا صفتیں یہ ہیں۔ربوبیت۔رحمائیت۔رحیمیت۔مالکیت یوم الدین۔(۱) ربوبیت اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کو چاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرایہ ، وجود پہنتے ہیں۔(۲) رحمائیت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے۔یعنی اُس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔(۳) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذو العقل کے منہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔(۴) مالکیت یوم الدین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامن افلاس پھیلاتے ہیں اور سچ مچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکنیت پر ایمان لاتے ہیں۔یہ چارالہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحمیت کی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے کسی کا حق نہیں جو دعوے سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔اب خلاصہ کلام یہ کہ خدا تعالیٰ کی یہ چار صفتیں ہیں جو قرآنی تعلیم اور تحقیق عقل سے ثابت ہوتی ہیں اور منجملہ ان کے رحیمیت کی صفت ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ کوئی انسان دعا کرے تا اس دعا پر فیوض الہی نازل ہوں۔ہم نے براہین احمدیہ اور کرامات الصادقین میں بھی یہ ذکر لکھا ہے کہ کیونکر یہ چاروں صفتیں لغت و نشر مرتب کے طور پر سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں اور کیونکر صحیفہ فطرت پر نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ اسی ترتیب سے جو سورہ فاتحہ میں ہے یہ چاروں صفتیں خدا کی فعلی کتاب قانونِ قدرت میں پائی جاتی ہیں۔اب دعا سے انکار کرنا یا اس کو بے سود سمجھنا یا جذب فیوض کے لئے اس کو ایک محرک قرار نہ دینا گویا خدا تعالیٰ کی تیسری صفت سے جو رحیمیت ہے انکار کرنا ہے۔مگر یہ انکار در پردہ دہر بات کی طرف ایک حرکت ہے کیونکہ