تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 133

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۳ سورة الفاتحة الضَّالِّينَ پر ختم کیا یعنی ان کی راہ سے بھی بچنے کی ہدایت فرمائی تو اس میں کیا ستر تھا اس میں یہی راز تھا کہ اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک قسم کا زمانہ آنے والا ہے جب کہ یہود کی تتبع کرنے والے ظاہر پرستی کریں گے اور استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے خدا کے راستباز کی تکذیب کے لئے اُٹھیں گے جیسا کہ یہود نے مسیح ابن مریم کی تکذیب کی تھی اور انہیں یہی مصیبت پیش آئی کہ اُنہوں نے اس کی تاویل پر ٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر خدا کا یہی مطلب تھا کہ ایلیا کا مثیل آئے گا تو کیوں خدا نے اپنی پیشگوئی میں اس کی صراحت نہ کی غرض اسی روش اور طریق پر اس وقت ہمارے مخالفوں نے بھی قدم مارا ہے اور میری تکذیب اور ایذاء دہی میں انہوں نے کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میرے قتل کے فتوے دیئے اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے مجھے ذلیل کرنا اور نابود کرنا چاہا۔اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کا اس ملک میں راج نہ ہوتا تو یہ مدت سے میرے قتل سے دل خوش کر لیتے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ان کی ہر مراد میں نامراد کیا اور وہ جو اُس کا وعدہ تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ الناس ( المائدة : ۶۸) وہ پورا ہوا۔غرض اس دُعا میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ) کا فرقہ مسلمانوں کے ایک گروہ کی اس حالت کا پتہ دیتا ہے جو وہ مسیح موعود کے مقابل مخالفت اختیار کرے گا اور ایسا ہی الضالین سے مسیح موعود کے زمانہ کا پتہ لگتا ہے کہ اس وقت صلیبی فتنہ کا زور اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ جاوے گا اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے جو سلسلہ قائم کیا جاوے گا وہ مسیح موعود ہی کا سلسلہ ہوگا اور اسی لئے احادیث میں مسیح موعود کا نام خدا تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کا سر الصلیب رکھا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ ہر ایک مجدد فتن موجودہ کی اصلاح کے لئے آتا ہے اب اس وقت خدا کے لئے سوچو تو کیا معلوم نہ ہوگا کہ صلیبی نجات کی تائید میں قلم اور زبان سے وہ کام لیا گیا ہے کہ اگر صفحات عالم کوٹولا جائے تو باطل پرستی کی تائید میں یہ سرگرمی اور زمانہ میں ثابت نہ ہوگی اور جبکہ صلیبی فتنہ کے حامیوں کی تحریریں اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ چکی ہیں اور توحید حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت ، عزت اور حقانیت اور کتاب اللہ کے من جانب اللہ ہونے پر ظلم اور زور کی راہ سے حملے کئے گئے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا سر الصلیب کو اُس وقت نازل کرے ؟؟؟ کیا خدا تعالیٰ اپنے وعدہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ ( الحجر :١٠ ) کو بھول گیا؟ یقیناً یا درکھو کہ خدا کے وعدے بچے ہیں۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا تعالیٰ اس کو ضرور قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو