تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 132

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورة الفاتحة جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کر رہا تھا۔ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے اور متعدد مرتبہ آزمایا ہے بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلیل کی حالت انتہا کو پہنچی ہے اور ہماری روح اس عبودیت اور فروتنی میں بہہ نکلتی ہے اور آستانہ حضرت واہب العطا یا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور ٹور اوپر سے اُترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک نالی کے ذریعہ سے مصفا پانی دوسری نالی میں پہنچتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اُسی قدر آپ روح القدس کی تائید اور روشنی سے مؤید اور منور ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہاں تک کہ آپ کے انوار و برکات کا دائرہ اسی قدر وسیع ہے کہ ابد الآباد تک اسی کا نمونہ اور ظل نظر آتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہورہا ہے وہ آپ ہی کی اطاعت اور آپ ہی کے اتباع سے ملتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے قل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: ۳۲) اور خدا تعالیٰ کے اس دعوی کی عملی اور زندہ دلیل میں ہوں اُن نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہاں تک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپ کھڑے ہو جاتے تھے اور اُس کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنتے اور جب تک کہ وہ خود آپ کو نہ چھوڑتی آپ نہ چھوڑتے تھے اور پھر غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے بالمقابل ہے۔اس کا ورد کرنے والا چشمہ ملِكِ يَوْمِ الدین سے فیض یا تا ہے جس کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ اے جزا و سزا کے دن کے مالک! ہمیں اس سے بچا کہ یہودیوں کی طرح جو دنیا میں طاعون وغیرہ بلاؤں کا نشانہ ہوئے اور اُس کے غضب سے ہلاک ہو گئے یا نصاری کی طرح نجات کی راہ کھو بیٹھیں اس میں یہود کا نام مغضوب اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کی شامت اعمال سے دنیا میں بھی اُن پر عذاب آیا کیونکہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں اور راست بازوں کی تکذیب کی اور بہت سی تکلیفیں پہنچا ئیں اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے جو یہاں سورہ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی اور اس سورہ کو