تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 115
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۵ راہ پیدا ہوتی اور ایک حق ہوتا ہے مگر مالکیت یوم الدین وہ حق اور ثمر ہ عطا کرتی ہے۔سورة الفاتحة الحکم نمبر ۱۹ جلد۷ مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱) ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ مالک ہے جزاء کے دن کا۔دہریہ اس کے مخالف ہیں جو کہتے ہیں کوئی جزا سزا نہیں۔صفت رحیمیت سے انکار کرنے والے تو پھر لا پرواہی سے عمل نہیں کرتے اور یہ خدا کے وجود سے منکر ہیں۔اس لئے عمد اعمال صالحہ کی طرف توجہ نہیں دیتے۔البدر نمبر اجلد۷ مؤرخہ ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۵) اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرما ئیں۔یعنی ربّ العالمین۔رحمان۔رحيم - مالك يوم الدين۔اور ان ہر چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمان کو ذکر کیا۔پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب کے اخیر صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کو لائے۔پس سمجھنا چاہئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ مفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا پر خدا کا چار طور پر فیضان پایا جاتا ہے۔جو غور کرنے سے ہر یک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے۔پہلا فیضان فیضان اہم ہے۔یہ وہ فیضانِ مطلق ہے کہ جو بلا تمیز ذی روح و غیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر علی الاتصال جاری ہے اور ہر یک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندار اس سے باہر نہیں۔اسی سے وجود تمام ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہر یک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے۔اور اگر نہ ہوتا تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے۔اور اسی کی رو سے خدا کا نام رب العالمین ہے۔جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَى : - ( الالعام : ۱۶۵ ) یعنی خدا ہر یک چیز کا ربّ ہے۔اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے باہر نہیں سو خدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفات فیضانی میں سے پہلے صفت رب العالمین کو بیان فرمایا اور کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔یہ اس لئے کہا کہ سب فیضانی صفتوں میں سے تقدم طبعی صفت ربوبیت کو حاصل ہے یعنی ظہور کے رو سے بھی صفت مقدم الظہو راور تمام صفات فیضانی سے اہم ہے کیونکہ ہر یک چیز پر خواہ جاندار ہو خواہ غیر جاندارمشتمل ہے۔الظہوراور پھر دوسرا قسم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقعہ ہے فیضان عام ہے۔اس میں اور فیضانِ ائم میں یہ فرق