تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 114
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۴ سورة الفاتحة سرا عائم ہے۔اس دنیا میں جو تکالیف رکھی ہیں اس کا وعدہ ہے کہ آئندہ عالم میں خوشی دے گا۔اگر اب بھی کوئی کہے کہ کیوں ایسا کیا اور ایسانہ کیا؟ اس کا یہ جواب ہے کہ وہ حکم اور مالکیت بھی تو رکھتا ہے۔اُس نے جیسا چاہا کیا۔کسی کو اس کے اس کام پر اعتراض کی گنجائش اور حق نہیں۔الحکم نمبر ۳۵ جلد ۱۲ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۵) (انسان) گناہ سے تو جلالی رنگ اور جیبت ہی سے بچ سکتا ہے جب یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزا میں شَدِيدُ الْعَذَابِ ہے اور ملک یوم الدین ہے تو انسان پر ایک ہیبت سی طاری ہو جائے گی جو اس کو گناہ سے بچالے گی۔الحکم نمبر ۴۵ جلد ۵ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱) ملِكِ يَوْمِ الذين سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ قیامت کو جزا سزا ہوگی بلکہ قرآن شریف میں بار بار اور صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ قیامت تو مجازات کبری کا وقت ہے۔مگر ایک قسم کی مجازات اسی دنیا میں شروع ہے جس کی طرف آیت يَجْعَلُ لَكُمْ فُرقان (الانفال:۳۰) اشارہ کرتی ہے۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲) فرمایا کہ میں ملِكِ يَوْمِ الدین ہوں۔جزا و سزا دینا اُس کے اختیار میں ہے اسی عالم سے جزا و سزا کا معاملہ شروع ہو جاتا ہے جو نقب زنی کرتا ہے شاید ایک دفعہ نہیں تو دوسری دفعہ دوسری دفعہ نہیں تو تیسری دفعہ ضرور پکڑا جاتا ہے یا کسی اور رنگ میں اسے سزا مل جاتی ہے ( یہ سزا کیا کم ہے کہ چور دولت کے لئے چوری کرتا ہے اور پھر بھی ہمیشہ مفلس اور غریب ذلیل رہتا ہے ) ہم نے اس عالم میں خوب غور کر کے دیکھ لیا کہ جو سرگرمی سے نیکی کرتا ہے تو نیک نتیجہ پانے سے خالی نہیں رہتا اور جو بدی کرتا ہے ضرور بدنتیجہ بھگت لیتا ہے دیکھو جو زنا کرتے ہیں اُن کو آتشک ہو جاتی ہے۔شراب پینے والوں کو رعشہ ہو جاتا ہے۔کسی کی انتڑیوں میں پھوڑے نکل آتے ہیں۔القصہ خدا کے اس قدر احسان ہیں کہ کس کی طاقت ہے جو ان احسانوں کو شمار کر سکے انسان جس قدر قوی لے کر آیا ہے وہ کس کا عطیہ ہیں۔انسان اگر سوچ کر دیکھے تو سب قومی اللہ کی زیر قدرت ہیں چاہے تو ایک دم میں قلب کی حرکت موقوف ہو جائے اور انسان فورا ہلاک ہو جائے مگر مرنے کو کس کا دل چاہتا ہے۔البدر نمبر ۲۵ جلدے مؤرخہ ۲۵ /جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۳) جولوگ قیامت کے منکر ہیں اس میں ان کا رڈ موجود ہے۔اس کی تفصیل قرآن شریف میں بہت جگہ آئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اس صفت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحیمیت میں دُعا اور عبادت کے ذریعہ کامیابی کی