تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 113
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۳ سورة الفاتحة آیت میں کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اسی کی طرف اشارہ ہے۔یعنی مختلف رنگوں اور پیرایوں اور عالموں میں جو دنیا کا نظام قائم رکھنے کے لئے زمین آسمان کی چیزیں کام کر رہی ہیں یہ وہ نہیں کام کرتیں بلکہ خدائی طاقت ان کے نیچے کام کر رہی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں بھی فرمایا صرح لممرد من قوارير (العمل: ۴۵) یعنی دنیا ایک شیش محل ہے جس کے شیشوں کے نیچے زور سے پانی چل رہا ہے اور نادان سمجھتا ہے کہ یہی شیشے پانی ہیں حالانکہ پانی ان کے نیچے ہے۔اور جیسا کہ قرآن شریف میں ایک تیسری جگہ بھی فرمایا۔حَمَلْتَهُمْ فِي الْبَر وَالْبَحْرِ (بنی اسرائیل: اے ) یعنی یہ خیال مت کرو کہ زمین تمہیں اُٹھاتی ہے یا کشتیاں دریا میں تمہیں اُٹھاتی ہیں بلکہ ہم خود تمہیں اٹھا رہے ہیں۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۳ تا ۴۲۶) رَبُّ العلمينَ کیسا جامع کلمہ ہے۔اگر ثابت ہو کہ اجرام فلکی میں آبادیاں ہیں تب بھی وہ آبادیاں اس کلمہ کے نیچے آئیں گی۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۲ حاشیہ) ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پرداز سب کچھ جزا سزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۳) مالک ایک ایسا لفظ ہے جس کے مقابل پر تمام حقوق مسلوب ہو جاتے ہیں اور کامل طور پر اطلاق اس لفظ کا صرف خدا پر ہی آتا ہے کیونکہ کامل مالک وہی ہے۔جو شخص کسی کو اپنی جان وغیرہ کا مالک ٹھہراتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ اپنی جان اور مال وغیرہ پر میرا کوئی حق نہیں اور میرا کچھ بھی نہیں سب مالک کا ہے۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳) ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگزر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اُس نے قرآن شریف کی پہلی سورت میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے اور فرمایا کہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو یعنی چاہے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے۔(چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴) قرآن شریف میں اس کا نام ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی ہے۔ہوسکتا ہے کہ انسان خوش حال ہومگر ممکن ہے کہ پرند، چرند اس سے بھی زیادہ خوش حال ہوں۔یہ دنیا ایک عالم امتحان ہے اس کے حل کرنے کے واسطے