تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 111
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام III سورة الفاتحة اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ پیغام صلح۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۴۰ تا ۴۴۲) کو بے نصیب ٹھہرایا۔سب حمد اس اللہ کے لئے جو تمام دنیا کو پیدا کرنے والا ہے۔اب بعض لوگ اس قسم کے ہیں جو خدا کے پیدا کرنے سے منکر ہیں۔جیسے آریہ جیو (روح) پر کرتی (مادہ) کی نسبت کہتے ہیں کہ آپ سے آپ چلے آتے ہیں۔جیسے پر میشر آپ سے آپ ہے ان کی کل طاقتیں بھی خود بخود ہیں پر میشر کا دخل نہیں۔یہ وہ فرقہ تھا جس کی طرف اللہ نے رَبُّ العالمین سے اشارہ کیا اور ان کی تردید بھی کی۔البد نمبر ا جلد۷ مؤرخہ ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۵) خدا کا نام رَبُّ العلمينَ ہے۔رب کے معنے پرورش کرنے والے کے ہیں۔عالم روحانی وجسمانی کی وہی پرورش کرتا ہے۔اگر اس نے ایسے قومی انسان میں نہ رکھے ہوتے تو انسان ان انعامات سے کہاں متمتع ہو سکتا۔ایسا ہی روحانی ترقی بغیر اس کے فضل کے ناممکن ہے۔(البدر نمبر ۲۵ جلد ۷ مؤرخہ ۲۵؍جون ۱۹۰۸ صفحه ۳) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں۔جب خدا تعالیٰ کی پرورش نہ ہوتو کوئی پرورش نہیں کر سکتا۔دیکھو! جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار۔۔۔۔۔ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں۔مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔طاعون کے مرض کی طرف غور کرو۔سب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا۔اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اسی کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے پھر فرماتا ہے الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور تمام پرورشیں تمام جہان پر اسی کی ہیں۔99191 البدر نمبر ۲۴ جلد ۲ مؤرخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳، صفحہ ۱۸۶) الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعلمين۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی تمام محامد اللہ کے لئے ثابت ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے یعنی اس کی ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۰۱) اس میں کلام کی جگہ نہیں کہ جو کچھ اجرام فلکی اور عناصر میں جسمانی اور فانی طور پر صفات پائی جاتی ہیں وہ روحانی اور ابدی طور پر خدا تعالیٰ میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے یہ بھی ہم پر کھول دیا ہے کہ سورج وغیرہ بذات خود کچھ چیز نہیں ہیں یہ اسی کی طاقت زبردست ہے جو پردہ میں ہر ایک کام کر رہی ہے۔وہی ہے جو