تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 108

۱۰۸ سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے لطیفہ سنایا کہ میں وحدت وجود کے مسئلہ کا قائل تھا اور شہودیوں کا سخت مخالف۔جب میں پہلے پہلے حضرت اقدس مرزا صاحب کی خدمت میں پہنچا تو آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ:۔ایک سمندر ہے جس سے سب شاخیں نکلتی ہیں مگر ہمیں شہودیوں والی بات درست معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ قرآن شریف کے شروع ہی میں جو کہا گیا ہے۔اَلحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعلمين عالمین کا رب تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رب اور ہے عالم اور ہے ورنہ اگر وحدت وجود والی بات صحیح ہوتی تو رَبُّ الْعَيْنِ کہا جاتا۔( بدر جلدے نمبر ا ا مؤرخہ ۱۹ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۶) پھر اس کے بعد رب العالمین کا لفظ ہے۔جیسا پہلے بیان کیا گیا ہے اللہ وہ ذات ( مستجمع ) جمیع صفات کاملہ ہے جو تمام نقائص سے منڈہ ہو اور حسن اور احسان کے اعلی نکتہ پر پہنچا ہوا ہو، تا کہ اس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اس کی عبادت کریں اس لئے پہلی خوبی احسان کی صفت رب العالمین کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے۔جس کے ذریعہ سے کل مخلوق فیض ربوبیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔مگر اس کے بالمقابل باقی سب مذہبوں نے جو اس وقت موجود ہیں۔اس صفت کا بھی انکار کیا ہے۔مثلاً آریہ جیسا ابھی بیان کیا ہے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ مل رہا ہے وہ سب اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور خدا کی ربوبیت سے وہ ہرگز ہرگز بہرہ ور نہیں ہے۔کیونکہ جب وہ اپنی روحوں کا خالق ہی خدا کو نہیں مانتے اور ان کو اپنے بقاو قیام میں بالکل غیر محتاج سمجھتے ہیں۔تو پھر اس صفت ربوبیت کا بھی انکار کرنا پڑا۔ایسا ہی عیسائی بھی اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ وہ مسیح کو اپنا رب سمجھتے ہیں اور ربّنا المسیح ربنا المسیح کہتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جمیع مافی العالم کا رب نہیں مانتے بلکہ مسیح کو اس کے فیض ربوبیت سے باہر قرار دیتے ہیں اور خود ہی اس کو رب مانتے ہیں۔اسی طرح پر عام ہندو بھی اس صداقت سے منکر ہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک چیز اور دوسری چیزوں کو رب مانتے ہیں۔برہم سماج والے بھی ربوبیت تامہ کے منکر ہیں کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ کرنا تھا وہ سب یکبار کر دیا اور یہ ( کہ ) تمام عالم اور اس کی قوتیں جو ایک دفعہ پیدا ہو چکی ہیں مستقل طور پر اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ ان میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔اور نہ کوئی ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا ہے ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ اب معطل محض ہے۔غرض جہاں تک مختلف مذاہب کو دیکھا جاوے اور ان کے