تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 105
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۵ سورة الفاتحة الْبُنْيَةِ مَلِيحُ الْحِلْيَةِ وَأَمَّا فِي | دنیا داروں کی نظر میں تو دنیا نہایت خوبصورت ہے اور خوش أَعْيُنِهِمْ فَهِيَ أَخْبَتُ مِنَ الْعَذِرَةِ رنگ ہے۔لیکن نیک لوگوں کی نظروں میں وہ میلے سے بھی وَأَنْتَن عَنِ الْمَيْتَةِ۔أَقْبَلُوا عَلَی اللہ زیادہ گندی اور مردار سے بھی زیادہ بد بودار ہوتی ہے۔وہ اپنی كُلَّ الْإِقْبَالِ وَمَالُوْا إِلَيْهِ كُلَّ الْمَيْلِ ساری توجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صدق بِصِدْقٍ الْبَالِ وَكَمَا أَنَّ قَوَاعِد دل سے وہ اس کی طرف پوری طرح جھک جاتے ہیں۔اور الْبَيْتِ مُقَدَّمَةٌ عَلى طاقي يُعقد جس طرح گھر کی بنیاد میں بنائے جانے والے طاقوں اور برآمدوں وَرُوَاقٍ يمهد۔كَذَالِك هؤلاء الكرام پر تقدم رکھتی ہیں اسی طرح مذکورہ بزرگ ہستیاں اس دنیا میں ہر مُقَدَّمُونَ في هَذِهِ النَّارِ عَلى كُل طبقة طبقہ کے نیک لوگوں پر تقدم رکھتی ہیں اور مجھے ( کشفا ) دکھا یا گیا مِنْ طَبَقَاتِ الْأَخْيَارِ۔وَأُرِيتُ أَنَّ ہے کہ زمین میں بھی اور بلند پایہ آسمانوں میں بھی ہمارے نبی أَكْمَلَهُمْ وَأَفَضَلَهُمْ وَأَعْرَفَهُمْ وَ محمد مصطفیٰ جن پر ہر قسم کی برکت ، رحمت اور سلامتی نازل ہوان أَعْلَيَهُمْ نَبِيُّنَا الْمُصْطَفَى عَلَيْهِ سب سے اکمل اور افضل اور اعرف سب سے زیادہ علم رکھنے التَّحِيَّةُ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلام فی والے ہیں اور تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ بد بخت وہ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلى وَ إِنَّ لوگ ہیں جنہوں نے آپ پر زبان درازی کی اور نکتہ چینی اور أَشْقَى النَّاسِ قَوْم أَطَالُوا الألسنة عیب جوئی کرتے ہوئے آپ پر حملہ آور ہوئے حالانکہ وہ الْأَلْسِنَةَ وَصَالُوا عَلَيْهِ بِالْهَمْزِ وَ تَجسس لوگ خدا تعالیٰ کے پوشیدہ رازوں سے آگاہ نہیں۔کئی ایسے سی الْعَيْبِ غَيْرَ مُطَّلِعِینَ عَلی سیز لوگ ہیں جن پر زمین میں تو لعنت کی جاتی ہے لیکن آسمان میں الْغَيْبِ وَكَمْ مِنْ مَّلْعُونِ فِي الْأَرْضِ اللہ تعالیٰ ان کی تعریف کرتا رہتا ہے۔اور اسی طرح کئی لوگ يَحْمَدُهُ اللهُ في السَّمَاءِ۔وَكَمْ تین ہیں جو اس دنیا میں تو صاحب عظمت سمجھے جاتے ہیں لیکن قیامت مُعَظَّم في هذِهِ النَّارِ يُقانُ في يَوْمِ کے دن وہ ذلیل ہوں گے۔پھر اللہ پاک ذات نے اپنے قول الْجَزَاءِ ثُمَّ هُوَ سُبْحَانَهُ أَشَارَ في قَوْلِهِ ربّ العالمین میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے۔رَبِّ الْعَلَمِينَ" إلى أنه تخالف حال اور آسمانوں اور زمینوں میں اس کی حمد ہوتی ہے۔اور پھر حمد کرنے شبي و أنه يُحْمَدُ في السَّمَاءِ وَ والے ہمیشہ اس کی حمد میں لگے رہتے ہیں اور اپنی یا دخدا میں محور شَيْءٍ الْأَرْضِينَ۔وَأَنَّ الْحَامِدِينَ كَانُوا عَلی ہتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اس کی تسبیح و تحمید