تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة الفاتحة أَعْقَابِهِمْ وَيُنَكِّسُونَ مَا ضَرَبُوا مِن کو خود ہی ) سرنگوں کر دیتے ہیں۔اور جو گر ہیں انہوں خِيَامِهِمْ وَيَحُلُونَ مَا أَرَبُوا مِنْ أَرَاجِم نے ڈالی ہوتی ہیں انہیں خود کھولتے ہیں۔وَمِنْ أَشْرَفِ الْعَالَمِينَ وَأَنجب تمام جہانوں میں سب سے زیادہ عالی مرتبہ اور مخلوقات الْمَخْلُوقينَ وُجُودُ الْأَنْبِيَاءِ میں سے سب سے زیادہ حیرت انگیز وجود نبیوں اور رسولوں وَالْمُرْسَلِينَ وَ عِبَادَ الله الصالحین اور خدا کے نیک اور صدیق بندوں کا ہوتا ہے کیونکہ وہ الصَّدِيقِينَ فَإِنَّهُمْ فَاقُوا غَيْرَهُمْ في سب دوسرے لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں نیک صفات بَ الْمَكَارِهِ وَكَشْفِ الْمَظَالِمِ وَ کے پھیلانے اور ظلم وستم کے دور کرنے اور عادات کے تهذيب الأَخْلاقِ وَإِرَادَةِ الْخَيْرِ لِلأَنفس سنوارنے میں اور اپنوں اور بیگانوں کے لئے نیک ارادے وَالْأَفَاقِ۔وَنَشْرِ الصَّلَاح وَالْخَيْرِ رکھنے میں راستبازی اور سلامتی کے پھیلانے میں بدی اور وَإجَاحَةِ الطَّلَاحِ وَالضَّيْرِ وَأَمْرِ تباہی کی جڑا کھاڑنے میں، نیکی کی تلقین کرنے اور بڑے الْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الثَّمَانِهِ - وَسَوقِ کاموں سے منع کرنے میں، بری خواہشات کو چوپاؤں کی الشَّهَوَاتِ كَالْبَهَائِمِ وَالتَّوَجُهِ إِلى رَبِّ طرح دستکارنے میں، پروردگار عالم کی طرف رخ کرنے الْعَبِيدِ۔وَقَطع التَّعَلُّقِ مِنَ الطَّرِيفِ میں، نئے اور پرانے مال سے قطع تعلق کرنے میں پوری وَالتِّلِيْدِ وَ الْقِيَامِ عَلى طَاعَةِ الله بالقوة قوت اور مکمل تیاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم الْجَامِعَةِ وَالْعُدَّةِ الْكَامِلَةِ وَالضَّوْلِ عَلی رہنے میں جمع کر دہ پشکروں اور اکٹھی کی ہوئی جماعتوں کے ذَرَارِي الشَّيْطَانِ بِالْحُشُودِ الْمَجْمُوعَةِ وَ ساتھ شیطان کی ذریت پر حملہ کرنے میں محبوب کی خاطر الْجُمُوعِ الْمَحْشُودَةِ وَ تَرْكِ الدُّنْيَا دنیا کو ترک کرنے اس کے شاداب مقامات سے کنارہ کشی لِلْحَبِيْبِ وَالتَّبَاعُدِ عَن مغناها کرنے اور اس کے پانیوں اور چراگاہوں سے ترک وطن الْخَصِيبِ وَتَرْكِ مَالِهَا وَمَرْعَاهَا کرنے کی طرح الگ ہو جانے میں، اور بارگاہ الہی میں اپنی كَالْهِجْرَةِ وَالْقَاءِ الْجِرَانِ فِي الْحَضْرَةِ گردن جھکانے میں وہ دوسروں پر فوقیت لے جاتے ہیں۔إِنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَتَمَطْمَضُ مُقْلَمُهُمْ یقینا یہ ایسی قوم ہے کہ ان کی آنکھوں میں نیند ایسی بالنوم۔إلا في حب الله والدُّعَاءِ لِلْقَوْمِ حالت میں آتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں (محو ) وَ إِنَّ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنٍ أَهْلِهَا لَطِيفُ اور قوم کے لئے دُعا کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔