تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 103
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة الفاتحة مَا يَدْفَعُ الظَّلامَ وَيَهْدِمُ مَا عَمَّر | رحمان کی طرف سے ایک امام نازل ہوتا ہے۔تاکہ وہ إِبْلِيسُ وَأَقَامَ مِنَ الْأَبنِيَةِ وَالْخيَامِ۔شیطانی لشکروں کا مقابلہ کرے اور یہ دونوں (رحمانی اور فَيَنْزِلُ إِمَامُ مِنَ الرَّحْمنِ لِيَذُبَّ شيطانى لشكر برسر پیکار رہتے ہیں اور ان کو وہی دیکھتا ہے جُنُودَ الشَّيْطَانِ وَلَمْ يَزَل هذہ جس کو دو آنکھیں عطا کی گئی ہوں۔یہاں تک کہ باطل کی الْجُنُودُ وَتِلْكَ الْجُدُودُ يَتَحَارَبَانِ۔وَلَا گردنوں میں طوق پڑ جاتے ہیں اور امور باطلہ کی سراب نما يَرَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَغْفِى لَهُ عَيْنَانِ حَتَّى دلیلیں معدوم ہو جاتی ہیں۔پس وہ امام دشمنوں پر ہمیشہ غالب غُلَّ أَعْنَاقُ الْأَبَاطِيْلِ۔وَانْعَدَمَ مَا اور ہدایت یافتہ کا مددگار رہتا ہے۔ہدایت کے علم بلند کرتا يُرَى لَهَا نَوْعُ سَرَابِ من الدِّلِيلِ فَمَا ہے اور پر ہیز گاری کے اوقات و اجتماعات کو زندہ کرنے والا زَالَ الْإِمَامُ ظَاهِرًا عَلَى الْعِدا نامیرا ہوتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اس نے کفر کے لمَنِ اهْتَدَى مُعْلِيًا مَّعَالِم الهدی سرغنوں کو قید کر دیا ہے۔اور ان کی مشکیں کس دی ہیں اور اس مُحْيِيا مَوَاسِمَ الثلى حتى يَعْلَم نے جھوٹ اور فریب کے درندوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کی النَّاسُ أَنَّهُ أَسَرَ طَوَاغِيْتَ الكُفْرِ وَشَدَّ گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں۔اور اس نے بدعات کی وَثَاقَهَا وَأَخَذَ سِبَاعَ الأَحاذِيْب وَغَل عمارتوں کو گرا دیا ہے اور ان کے گنبدوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔أَعْنَاقَهَا وَهَدَم عِمَارَةَ الْبِدُعَاتِ اور اس نے ایمان کے کلمہ کو اکٹھا کر دیا ہے اور اس کے وَقَوَّضَ قِبَابَهَا وَجَمَعَ كَلِمَةَ الْإِيْمَانِ اسباب کو منظم کر دیا ہے۔اس نے آسمانی سلطنت کو مضبوط کیا وَنَظَمَ أَسْبَابَهَا وَقَوَى السَّلْطَنَةَ ہے اور تمام رخنوں کو بند کر دیا ہے۔اس نے اس (سلطنت ) السَّمَاوِيَّةَ وَسَلَّ الشُّغُورَ وَأَصْلَحَ شَأْنَهَا کی شان بہتر بنادی ہے اور اس کے معاملات کو درست کر دیا وَسَدَّدَ الْأُمُورٌ وَسَكَّنَ الْقُلُوب ہے۔اور اس نے بیقرار دلوں کو تسکین دی ہے۔جھوٹ الرّاجِفَةَ۔وَبَكَّتَ الأَلْسِنَةَ الْمُرْجِفَةَ پھیلانے والی زبانوں کو خاموش کر دیا ہے اور تاریک دلوں کو وَأَنَارَ الْخَوَاطِرَ الْمُظْلِمَةَ وَجَدَّدَ الدولة روشن کر دیا ہے۔اور بوسیدہ سلطنت کی تجدید کی ہے۔خدائے الْمُخْلِقَةَ وَكَذَالِكَ يَفْعَلُ الله کارساز ایسا ہی کرتا رہتا ہے۔یہاں تک کہ اندھیرا اور گمراہی الْفَغَالُ حَتَّى يَذْهَبَ الظَّلامُ جاتی رہتی ہے۔اور اس وقت دشمن اپنی ایڑیوں پر پسپا ہو وَالضَّلَالُ۔فَهُنَاكَ يَنكُصُ الْعِدَا عَلی جاتے ہیں۔اور جو خیمے انہوں نے گاڑے ہوتے ہیں ان