تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 80
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۰ سورة الفاتحة اناج بنائے۔ہماری طرح طرح کی امراض کے واسطے شفا بخش دوائیں پیدا کیں غرض اسی طرح کے ہزاروں ہزار انعامات ایسے ہیں کہ بغیر ہمارے کسی عمل یا محنت و کوشش کے اُس نے محض اپنے فضل سے پیدا کر دیئے ہیں۔اگر انسان ایک عمیق نظر سے دیکھے تو لاکھوں انعامات ایسے پائے گا۔اور اس کو کوئی وجہ انکار کی نہ ملے گی اور ماننا ہی پڑے گا کہ وہ انعامات اور سامان راحت جو ہمارے وجود سے بھی پہلے کے ہیں۔بھلا وہ ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں دیکھو یہ زمین اور یہ آسمان اور ان میں تمام چیزیں اور خود ہماری بناوٹ اور وہ حالت کہ جب ہم ماؤں کے پیٹ میں تھے اور اس وقت کے قومی یہ سب ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں۔میں ان لوگوں کا یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا جو تناسخ کے قائل ہیں مگر ہاں اتنا بیان کئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے لا تعداد اور انعام اور فضل ہیں کہ ان کو کسی تراز و میں وزن نہیں کر سکتے۔بھلا کوئی بتا تو دے کہ یہ انعامات کہ چاند بنایا، سورج بنایا، زمین بنائی اور ہماری تمام ضروریات ہماری پیدائش سے بھی پہلے مہیا کر دیں یہ کل انعامات کس عمل کے ساتھ وزن کریں گے؟ پس ضروری طور سے یہ ماننا پڑے گا کہ خدا رحمن ہے اور اس کے لاکھوں فضل ایسے بھی ہیں کہ جو محض اس کی رحمانیت کی وجہ سے ہمارے شامل حال ہیں اور اس کے وہ عطا یا ہمارے کسی گذشتہ عمل کا نتیجہ نہیں ہیں اور کہ جولوگ ان امور کو اپنے کسی گذشتہ عمل کا نتیجہ خیال کرتے ہیں وہ محض کو نہ اندیشی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں خدا کا فضل اور رحمانیت ہماری روحانی جسمانی تکمیل کی غرض سے ہے اور کوئی دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ میرے اعمال کا نتیجہ ہیں۔الرَّحِیم۔انسان کی سچی محنت اور کوشش کا بدلہ دیتا ہے ایک کسان سچی محنت اور کوشش کرتا ہے۔اس کے مقابل میں یہ عادت اللہ ہے کہ وہ اس کی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اور بابرگ و بار کرتا ہے شاذ و نادر حکم عدم کا رکھتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مؤرخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ ء صفحه ۲) خدا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تردید کرتی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کوشش کے بعض اشیاء کے عنایت کرنے والا نہیں مانتے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفت الرحیم کا بیان ہے یعنی محنتوں کوششوں اور اعمال پر ثمرات حسنہ مترتب کرنے والا۔یہ صفت اس فرقہ کو ر ڈ کرتی ہے جو اعمال کو بالکل لغو خیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نماز کیا تو روزے کیا اگر غفور الرحیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے نہیں تو جہنم میں۔اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتاں کر