تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 79

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة الفاتحة اور تضیع اعمال سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے۔رحمانیت تو بالکل عام تھی لیکن رحیمیت خاص انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری مخلوق میں دُعا، تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ اور قوت نہیں یہ انسان ہی کو ملا ہے۔رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے کہ رحمانیت دُعا کو نہیں چاہتی مگر رحیمیت دُعا کو چاہتی ہے اور یہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے اور اگر انسان انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اُٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے۔یہ صفت بھی تمام مذاہب باطلہ کے رڈ کے لئے کافی ہے کیونکہ بعض مذہب اباحت کی طرف مائل ہیں اور وہ مانتے ہیں کہ دنیا میں ترقیات نہیں ہوتی ہیں۔آریہ جبکہ اس صفت کے فیضان سے منکر ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ کا کب قائل ہوسکتا ہے؟ سید احمد خاں مرحوم نے بھی دُعا کا انکار کیا ہے اور اس طرح پر وہ فیض جو دُعا کے ذریعہ انسان کو ملتا ہے اس سے محروم رکھا ہے۔الحکم نمبر ۱۹ جلد۷ مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱) جب ہم خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیا کیا ہے یا کرتا ہے وہ دو قسم کی بخشش ہے۔ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں۔اور ایک ذرہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اُس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج، چاند، ستارے، زمین ، پانی ، ہوا، آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ان چیزوں کو انسانوں کے وجود اور ان کے عملوں پر تقدم ہے اور انسان کا وجود ان کے وجود کے بعد ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رُو سے رحمانیت کہتے ہیں یعنی ایسی جود وعطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیت کہتے ہیں۔یعنی وہ انعام اکرام جو بنام نہاد پاداش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۸،۲۷) رحمانیت اور رحیمیت میں فرق یہ ہے کہ رحمانیت میں فعل اور عمل کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔مگر رحیمیت میں فعل و عمل کو دخل ہے لیکن کمزوری بھی ساتھ ہی ہے۔خدا کا رتم چاہتا ہے کہ پردہ پوشی کرے۔(احکام جلد ۵ نمبر ۳۲ مؤرخه ۳۱ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۲) اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کا نام جو بغیر کسی عوض یا انسانی عمل محنت اور کوشش کے انسان کے شامل حال ہوتی ہے رحمانیت ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے نظام دنیا بنا دیا، سورج پیدا کیا، چاند بنایا، ستارے پیدا کئے ، ہوا، پانی،