تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 77

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة تعصب اور جہالت میں غرق ہو مگر یہ بات تو وہ منہ پر نہیں لاسکتا کہ یہ انسان ہی کے نیک کاموں کا پھل اور نتیجہ ہے کہ اس کے آرام کے لئے زمین پیدا کی گئی یا اس کی تاریکی دور کرنے کے لئے آفتاب اور ماہتاب بنایا گیا یا اس کے کسی نیک عمل کی جزا میں پانی اور اناج پیدا کیا گیا یا اس کے کسی زہد اور تقوی کے پاداش میں سانس لینے کے لئے ہوا بنائی گئی کیونکہ انسان کے وجود اور زندگی سے بھی پہلے یہ چیزیں موجود ہو چکی ہیں اور جب تک ان چیزوں کا وجود پہلے فرض نہ کر لیں تب تک انسان کے وجود کا خیال بھی ایک خیال محال ہے پھر کیونکر ممکن ہے کہ یہ چیزیں جن کی طرف انسان اپنے وجود اور حیات اور بقا کے لئے محتاج تھا وہ انسان کے بعد ظہور میں آئے ہوں پھر خود انسانی وجود جس احسن طور کے ساتھ ابتدا سے تیار کیا گیا ہے یہ تمام وہ باتیں ہیں جو انسان کی تکمیل سے پہلے ہیں اور یہی ایک خاص رحمت ہے جس میں انسان کے عمل اور عبادت اور مجاہدہ کو کچھ بھی دخل نہیں ۔ دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جو انسان کے اعمال حسنہ پر مترتیب ہوتی ہے کہ جب وہ تضرع سے دُعا کرتا ہے تو قبول کی جاتی ہے اور جب وہ محنت سے تخم ریزی کرتا ہے تو رحمت الہی اس تخم کو بڑھاتی ہے یہاں تک کہ ایک بڑا ذخیرہ اناج کا اس سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح اگر غور سے دیکھو تو ہمارے ہر یک عمل صالح کے ساتھ خواہ وہ دین سے متعلق ہے یا دنیا سے رحمت الہی لگی ہوئی ہے اور جب ہم ان قوانین کے لحاظ سے جو الہی سنتوں میں داخل ہیں کوئی محنت دنیا یا دین کے متعلق کرتے ہیں تو فی الفور رحمت الہی ہمارے شامل حال ہو جاتی ہے اور ہماری محنتوں کو سرسبز کر دیتی ہے یہ دونوں رحمتیں اس قسم کی ہیں کہ ہم ان کے بغیر جی ہی نہیں سکتے ۔ کیا ان کے وجود میں کسی کو کلام ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو اجلی بدیہیات میں سے ہیں جن کے ساتھ ہماری زندگی کا تمام نظام چل رہا ہے۔ پس جبکہ ثابت ہو گیا کہ ہماری تربیت اور تکمیل کے لئے دورحمتوں کے دو چشمی قادر کریم نے جاری کر رکھے ہیں اور وہ اس کی دو صفتیں ہیں جو ہمارے درخت وجود کی آبپاشی کے لئے دورنگوں میں ظاہر ہوئے ہیں تو اب دیکھنا چاہیئے کہ وہ دو چشمے زبان عربی میں منعکس ہو کر کس کس نام سے پکارے گئے ہیں۔ پس واضح ہو کہ پہلے قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان عربی میں خدا تعالیٰ کو رحمن کہتے ہیں اور دوسرے قسم کی رحمت کے لحاظ سے زبان موصوف میں اس کا نام رحیم ہے اسی خوبی کے دکھلانے کے لئے ہم عربی خطبہ کے پہلی ہی سطر میں رحمان کا لفظ لائے ہیں ۔ اب اس نمونہ سے دیکھ لو کہ چونکہ یہ رحم کی صفت اپنی ابتدائے تقسیم کے لحاظ سے الہی قانون قدرت کے دو قسم پر مشتمل تھی۔ لہذا اس کے لئے زبان عربی میں