تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 94

اونٹوں سے باندھ کر اور پھر اونٹوں کو مخالف اطراف میں دوڑا کر انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔لیکن ان تمام تکالیف کے باوجود وہ پروانوں کی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد چکر لگاتے رہے اور آپ پر اپنی جانیں نچھاور کرتے رہے۔پس گو شیطان صداقت کا ازلی دشمن ہے اور اُس کی کوشش ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ صداقت کا نشان تک دنیا سے مٹ جائے۔مگر آخر شیطان ہی صداقت کی اشاعت کا ایک ہتھیار بن جا تا ہے۔اوربھولے بھٹکے انسانوں کو آستانۂ الوہّیت کی طرف کھینچ لاتا ہے اس لئے جَعَلْنَا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس تدبیر کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ لمّۂ شر ہم نے اپنی حکمت ِ کاملہ سے خود پیدا کیا ہے اور چونکہ یہ اعتراض پید ا ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کیا کہ ایک طرف تو وہ اپنے پیاروں کو مبعوث فرماتا ہے اور دوسری طرف دشمنوں کو اُن پر کُتّوں کی طرح مسلط کرد یتا ہے۔اس لئے اس کا جواب یہ دیا کہ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّ نَصِيْرًا۔تیرا رب لوگوں کو ہدایت دینے اور اپنے مامورین کی معجزانہ مدد کرنے کے لحاظ سے بڑا کافی ہے۔یعنی بظاہر تو یہ مخالفتیںتمہیں قابلِ اعتراض نظر آتی ہیں لیکن انہی مخالفتوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا ہادی اور اُس کا نصیر ہونا ظاہر ہوتا ہے۔جب مخالفت ترقی کرتی ہے تو جماعت کو بھی ترقی حاصل ہوتی ہے اور جب مخالفت بڑھتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائیدات اور نصرتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں جب کوئی دوست یہ ذکر کرتے کہ ہمارے ہاں بڑی مخالفت ہے تو آپ فرماتے یہ تمہاری ترقی کی علامت ہے۔جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں جماعت بھی بڑھتی ہے کیونکہ مخالفت کے نتیجہ میں کئی ناواقف لوگوں کو بھی سلسلہ سے واقفیت ہو جاتی ہے۔اور پھر رفتہ رفتہ اُن کے دل میں سلسلہ کی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو جاتا ہے اور جب وہ کتابیں پڑھتے ہیں تو صداقت اُن کے دلوں کو موہ لیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک دفعہ ایک دوست حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کی بیعت کی۔بیعت لینے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اُن سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کس نے تبلیغ کی تھی وہ بے ساختہ کہنے لگے۔مجھے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے تبلیغ کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حیرت سے فرمایا وہ کس طرح ؟ وہ کہنے لگے میں مولوی صاحب کا اخبار اور اُن کی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔اور میں ہمیشہ دیکھتا کہ اُن میں جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت ہوتی تھی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ میں خود بھی تو اس سلسلہ کی کتابیں دیکھوں کہ ان میں کیا لکھا ہے اور جب میںنے ان کتابوں کو پڑھنا شروع کیا تو میرا سینہ کھل گیا اور میں بیعت کے لئے تیار ہوگیا۔تو مخالفت کا پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے الٰہی سلسلہ کو ترقی حاصل ہوتی ہے اور کئی لوگوں کو ہدایت میسر آجاتی ہے پھرد وسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید اور نصرت کے نشانات ظاہر ہونے لگ