تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 91
نہیں بلکہ بعض حالات میں ناجائز ہے وہ اپنی رسوائی اور اسلام کی بدنامی کرتے ہوئے حج کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔نماز کا ترجمہ تو عربی بولنے والے ممالک کے سوا شاید مسلمانوں میں دو چار فیصدی ہی جانتے ہوں مگر وہ بے معنی نما ز بھی جو لوگ پڑھتے ہیں اُسے اس طرح چٹی سمجھ کر پڑھتے ہیں کہ رکوع اور سجدے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور نماز میں اپنی زبان میں دعا مانگنا تو کفر ہی سمجھا جانے لگا ہے۔روزہ اوّل تو کئی لوگ رکھتے ہی نہیں اور جو لوگ رکھتے ہیں وہ جھوٹ اور غیبت سے اُسے موجب ِ ثواب بنانے کی بجائے موجبِ عذاب بنا لیتے ہیں۔ورثہ کے احکام پسِ پشت ڈالے جاتے ہیں۔سود جس کا لینا خدا سے جنگ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے علماء کی مدد سے ہزاروں حیلوں اور بہانوں کے ساتھ اس کی وہ تعریف کی گئی ہے کہ اب شاید ہی کوئی سود کی لعنت سے محفوظ ہو۔اخلاقِ فاضلہ جو کسی وقت مسلمان کا ورثہ اور اُس کا حق سمجھے جاتے تھے اب مسلمانوں سے اس قدر دُور ہیں جس قدر کفر اسلام سے۔کسی زمانے میں مسلمان کا قول نہ ٹلنے والی تحریر سمجھا جاتا تھا۔اور اس کا وعدہ ایک نہ بدلنے والا قانون مگر آجکل مسلمان کی بات سے زیادہ اور کوئی غیر معتبر قول نہیں اور اس کے وعدے سے زیادہ اور کوئی بے حقیقت شے نظر نہیں آتی۔یہ تباہی جو عملی اور اعتقادی لحاظ سے مسلمانوں پر آئی اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا اور اس پر عمل کرنا ترک کر دیا۔اگر وہ قرآن کریم پر عمل کرتے تو جس طرح صحابہ ؓ ساری دنیا پر غالب آگئے تھے۔اسی طرح وہ بھی غالب آجاتے اور کفر اور شیطنت کا نشان تک دنیا سے مٹ جاتا۔میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو بھی بار ہا توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم کے درس کا باقاعدہ انتظام کریں لیکن مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک جماعتوں نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی حالانکہ قرآن کریم اپنے اندر اتنی برکات رکھتا ہے کہ قیامت کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر کہیں گے کہ اے میرے خدا مجھے اپنی قوم کے افراد پر انتہائی افسوس ہے کہ میں نے تیرا محبت بھر ا پیغام اُن تک پہنچایا مگر بجائے اس کے کہ وہ تیرے پیغام کوسن کر شادی مرگ ہو جاتے۔بجا ئے اس کے کہ وہ اسے سن کر ممنون ہوتے۔بجائے اس کے کہ اسے سُن کر ان کے جسم کا ہرذرّہ اور اُن کے دل کی ہر تار کانپنے لگ جاتی۔بجائے اس کے کہ وہ اس مژدۂ جانفرا کو سُن کر عقیدت اور اخلاص سے اپنے سرجھکا دیتے اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا انہوں نے تیرے پیغام کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور کہا کہ جائو ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے۔بیشک اندھی دُنیا خدا تعالیٰ کے پیغام کے ساتھ یہی سلوک کرتی چلی آئی ہے مگر وہ دنیا جو یہ جانتی نہیں کہ خدا تعالیٰ کیا ہے اور اس کا رسول کتنی بڑی شان رکھتا ہے وہ جو کچھ کرتی ہے اُسے کرنے دو۔میں اس مومن سے پوچھتا ہوں جو کہتا ہے کہ خدا ہے جو جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی کیا عظمت ہے۔جو سمجھتا