تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 5

پس اس کی خلاف ورزی ایک آسمانی حکم ہی کی خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ خود نیچر اور اس کے قوانین کی بھی مخالفت ہے اس لئے دنیا کے کسی مذہب کے پیرو اور کسی ملک کے رہنے والے قرآن کریم کو ماننے اور اس پر عمل کرنے والوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔اور جب حالت یہ ہے تو یہ لوگ جو ڈر رہے ہیں صرف ایک خیالی اور وہمی بات سے ڈر رہے ہیں۔حقیقت پر اُن کے ڈر کی بنیاد نہیں ہے۔یہ تو ان دونوں سورتوں کا قریبی تعلق ہے۔ساری سورۃ کے مضمون کے لحاظ سے اس سورۃ کا گذشتہ سورۃ کے مضمون سے یہ تعلق ہے کہ سورۂ نور میں قوم کی اخلاقی حالت کی درستی اور عائلی اور قومی تنظیم کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ کامیابی کے لئے عقائد اور افکار اور اخلاق کی اصلاح کے ساتھ قومی تنظیم پر خاص طور پر زور دینا چاہیے اور افراد کے حقوق پر قوم کے حقوق کو مقدم رکھنا چاہیے۔اب اس سورۃ میں گو اسی مضمون کو جاری رکھا گیا ہے جو سورۂ نور میں بیان کیا گیا تھا۔مگر زیادہ تر مضمون کے اس پہلو کی طرف توجہ کی گئی ہے کہ نیک اور بد کامقابلہ دنیا میں کس طرح چلتا ہے۔گویا ایمانی ترقی اور کفر کی ترقی کا آپس میں مقابلہ کیا گیا ہے اور ان دونوں کو مقابل پر بہنے والے دو دریا قرار دیا گیا ہے اور مسیح موعود ؑ کے زمانہ تک کی اسلامی ترقی اورتنزل کا حال بیان کیا گیا ہے۔اس طرح مسلمانوں کی ترقی کی خبروں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمانی ترقی کی خبروں کو بھی شامل کر دیا ہے۔خلاصۂ مضمون یہ قرآن دو پہلو رکھتا ہے۔ماننے والوںکے لئے رحمت اور نہ ماننے والوںکے لئے تنبیہہ۔کیونکہ اس کا نازل کرنےوالا زمین و آسمان کا مالک ہے۔وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور کائنات کا ہر ذرہ اس کی پیدائش ہے اس لئے اس کاکلام نیچر کے مطابق ہے اور اس کا انکار اور اقرار محض ایک شریعت کا اقرار یا انکار نہیں بلکہ قانونِ نیچر کا اقرار و انکار بھی ہے کیونکہ جب دونوں کا خالق ایک ہے تو کلام الٰہی اور قانونِ نیچر دونوں مختلف نہیں ہو سکتے۔( آیت ۱ تا ۴) قرآن کے مخالف جب قرآنی تعلیم کی بر تری کو دیکھتے ہیں تو مجبور ہو کر یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ کلام ایک شخص کا نہیں بلکہ بہتوں نے مل کر یہ کلام اس شخص کو بناد یا ہے۔یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے صحائف کی چوری ہے۔( آیت ۵،۶) لیکن ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کیونکہ انسانوں نے کلام بنایا ہو تو مافو ق الانسانیت باتیں اس میں نہیں چاہئیں اور اگر پہلی کتب کی نقل ہے تو ان کتب میں بھی وہ خوبیاں ہونی چاہئیں۔( آیت ۷) بعض مخالف کہتے ہیں کہ یہ تو ایک انسان ہے۔ہماری طرح کھاتا پیتا۔لوگوں میں ملتا جلتا۔خدا نے بھجوانا تھا