تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 82

يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا۰۰۲۸يٰوَيْلَتٰى وائے بدبختی ! کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔اُس نے مجھے خدا کے ذکر لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا۰۰۲۹لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ سے غافل کر دیا جبکہ وہ( رسول کے ذریعہ سے) میرے پاس آیا تھا۔بَعْدَ اِذْ جَآءَنِيْ١ؕ وَ كَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا۰۰۳۰ اور شیطان آخر انسان کو کو اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔حلّ لُغَات۔خَذُوْلًا۔خَذُوْلًاخَذَلَ سے ہے اور خَذَلَہٗکے معنے ہیں تَرَکَ نُصْرَتَہٗ وَاعَانَتَہٗ اُس کی اعانت اور مدد چھوڑ دی۔پس خَذُوْلًا کے معنے ہوںگے مدد اور نصرت کو چھوڑ دینے والا۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔تم اُس دن کو یاد کرو جبکہ آسمان پھٹ جائےگا اور بادل ہی بادل ظاہر ہو جائیں گے۔اور کفار کو عذاب دینےکے لئے کثرت سے فرشتے نازل کئے جائیں گے۔اُس دن بادشاہت کافروں سے چھین کر خدا اپنے ہاتھ میں لے لےگا۔اور وہ دن کافروںکے لئے بڑا سخت ہوگا اور کافر اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کہےگا کہ کاش میں محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ہوتا۔کاش ! میں فلاں شخص کو جو دشمنِ رسول تھا اپنا دوست نہ بناتا۔اس کم بخت دوست نے خدا تعالیٰ کا پیغام آنے کے بعد مجھے اور بھی گمراہی میں دھکیل دیا۔اور میرے لئے شیطان بن گیا۔اور شیطان ہمیشہ وقت پر ساتھ چھوڑ دیا کرتا ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اُس عذاب کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں جو کفارکے لئے آسمان پر مقدر ہو چکا تھا چونکہ اُن کا مطالبہ تھا کہ اگر یہ رسول سچا ہے تو ہم پر فرشتے کیوں نہیں اُتارے گئے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ایک دن آنے والا ہے جبکہ فرشتے تمہاری سرکوبی کے لئے آسمان سے اتارے جائیں گے۔مگر وہ دن تمہارے لئے خوشی کا موجب نہیں ہوگا بلکہ حسرت اور افسوس کا موجب ہوگا۔آج تو تم بڑی بے باکی کے ساتھ کہتے ہو کہ وہ فرشتے کہاں ہیں جن کا روزانہ ذکر کیا جاتا ہے۔ہم پر بھی اُتریں تو ہم جانیں کہ تم سچ کہتے ہو۔مگر جب وہ نازل ہوئے تو اُس دن تم کہو گے کہ کاش ! ہم پر یہ دن نہ چڑھتا اور ہم اس کی آفات سے محفوظ رہتے۔چنانچہ فرماتا ہے۔يَوْمَ تَشَقَّقُ