تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 81

دلوں میں یہ خیال کرتے ہیں کہ قوم کو جس مقام تک پہنچانے کا یہ شخص مدعی ہے اُسے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔گویا بظاہر تو مخالفت کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس شخص نے قوم سے غداری کی ہے اور بتوں کی پرستش کو چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کا ڈھونگ رچا دیا ہے مگر مخالفت کی اصل وجہ اُن کے دلوں کی یہ کیفیت ہے کہ وہ ان دعووں کو ناقابلِ حصول سمجھتے ہیں اور اس مایوسی کی وجہ سے ان قربانیوںکے لئے جو آپ کے ساتھ مل کر کرنی پڑتی ہیں اپنے نفوس میں جرأت نہیں پاتے اور مخالفت پر آمادہ رہتے ہیں۔پھر فرماتا ہے کہ فرشتوں کا یہ مطالبہ تو کرتے ہیں مگر ہمارے فرشتے یا تو الہام لایا کرتے ہیں۔یا کفار پر عذاب نازل کیا کرتے ہیں۔الہام کے تو یہ قابل نہیں اور جب عذاب آیا تو اس وقت یہی کہیں گے کہ خدایا اسے ٹلادے اور اس سے دُور بھاگنے کی کوشش کریں گے گویا اُس وقت فرشتوں کا آنا اُن کے لئے کسی برکت کا موجب نہیں ہوگا بلکہ تباہی اور بربادی کا موجب ہوگا اور ہمارا یہ عذاب بلاوجہ نہیں ہوگا۔بلکہ اس لئے ہوگا کہ یہ لوگ صداقت کو دنیا سے مٹانا چاہتے ہیں جس میں ہم اُن کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔چنانچہ جب بھی یہ لوگ صداقت پر حملہ کرنے کی طرف توجہ کریں گے ہم ان کو تباہ کر دیں گے اور انہیں ہوا میں بکھرے ہوئے ذرات کی طرح منتشر اور پراگندہ کردیں گے اور انہیں ایسا پیسیں گے کہ اُن کے دوست اور مددگار بھی اُن کو اکٹھا نہیں کر سکیں گے۔اس کے مقابلہ میں مومنوں کو ہماری طرف سے اعلیٰ سے اعلیٰ ٹھکانے ملیں گے اور اُن کے قیلولہ کی جگہ بھی بڑی اچھی ہوگی۔یعنی اُن کے صبح کے کام اُن کے دوپہر کے آرام کو بڑا خوشگوار بنا دیں گے اور اُن کی قربانیاں انہیں اور اُن کی آئندہ نسلوں کو ایک لمبے عرصہ تک اللہ تعالیٰ کی برکات اور نعماء سے متمتع کرتی رہیں گی۔وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اور اُس دن (کو یاد کرو) جب آسمان پھٹ جائےگا اور بادل سر پر منڈلا رہے ہوںگے اور ملائکہ بار بار اُتارے تَنْزِيْلًا۰۰۲۶اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ يَوْمًا جائیں گے۔اُس دن بادشاہت سچ مچ رحمٰن (خدا) کے قبضہ میں نظر آئے گی۔اور( یہ) دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا۔عَلَى الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا۰۰۲۷وَ يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ اور اُس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا (اور) کہے گا۔اے کاش! میں رسول کے ساتھ چل پڑتا۔