تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 80

سے بچنےکے لئے لقا ء الٰہی کے سرے سے ہی منکر ہو جاتے ہیں اور اسلام کے اس مسئلہ کے مقابل میں اپنی طرف سے لقاء الٰہی کا جھوٹا دعویٰ بھی پیش کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے بلکہ کہہ دیتے ہیں کہ لقائے الٰہی نہ تمہارے ہاں ہے نہ ہمارے ہاں ہے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ لقائے الٰہی تمہارے مذہب میں نہیں اور ہمارے مذہب میں ہے۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا دعویٰ کیا تو وہ اُسے ثابت نہیں کر سکیں گے۔یہ لقائے الٰہی کس طرح حاصل ہوتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اصولی رنگ میں قرآن کریم میں یہ ہدایت دی ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِِ ( انشقاق:۷) یعنی اے انسان تیرے لئے اپنے رب سے ملنے کا راستہ تو ہر وقت کھلا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تیری طرف سے کَدَح ہونا چاہیے۔اور کدح اُس کام کو کہتے ہیں جو اتنی محنت سے کیا جائے جس کا اثر انسان کے جسم پر بھی محسوس ہونے لگے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا یا ہے کہ انسان کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ ادھر وہ ایمان لایا تو اُدھر اُسے روحانیت میں کمال حاصل ہو جائےگا بلکہ اس کے لئے اُسے متواتر محنت اور جدوجہد کرنی پڑے گی۔اور قربانیوں کی ایک آگ میں سے اُسے گذرنا پڑے گا تب اُسے لقاء الٰہی کی نعمت میسر آئے گی۔غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی بے باکی کی بڑی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ لقاء الٰہی کے منکر ہیں۔جس کی وجہ سے نہ تو اُن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہےاور نہ اُس کے عذاب کا خوف پایا جاتا ہے اور پھر اُن کے ان مطالبات کا ذکر فرمایا ہے کہ اگر یہ سچا رسول ہے تو ہم پر فرشتے کیوں نہیں اترتے یا ہم خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے کیوں نہیں دیکھ لیتے۔اس سے پہلے وہ یہ اعتراض بھی کر چکے تھے کہ اگر یہ سچا رسول تھا تو چاہیے تھا کہ اس کے پاس کوئی بہت بڑا باغ ہوتا جس کے پھلوں اور میووں سے لدے ہوئے درخت اس کے دعویٰ کا ثبوت ہوتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے نزدیک صداقت کے دو ہی ثبوت ہوا کرتے ہیں۔اوّل مادی غلبہ ، دوم سُنت اللہ کے خلاف محیر العقول کارنامے۔چونکہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ دونوں باتیں نظر نہیں آتی تھیں نہ مال و دولت اور خزانوں کے ڈھیر انہیں آپ کے پاس دکھائی دیتے تھے اور نہ سنت اللہ کے خلاف کوئی مافوق الانسانیت بات آپ میں دکھائی دیتی تھی اس لئے وہ آپ کے دعویٰ پر ہنسی اُڑاتے تھے۔اللہ تعالیٰ اُن کے ان اعتراضات کا ذکر کرتے ہو ئے فرماتا ہے لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِی اَنْفُسِھِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا۔ان اعتراضات کا اصل باعث یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں ان دونوں باتوں کو بہت بڑا اور ناممکن سمجھتے ہیں اور شرارتوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔یعنی منہ سے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جھوٹ بول رہے ہیں اور قوم کے دشمن ہیں۔لیکن اپنے