تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 79

اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلًا ( بنی اسرائیل :۷۳) یعنی جو شخص اس دنیا میں خدا تعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتا اور اس کو اپنے دل کی آنکھوں سے نہیں دیکھتا وہ آخرت میں بھی اُسے نہیں دیکھ سکے گا۔اور سب سے بڑھ کر بھٹکا ہو ا ہوگا۔اسی طرح فرماتا ہے۔کَلَّا اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ( التطفیف :۱۰) یعنی کفار قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے آنے سے روکے جائیں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی روئت حاصل نہیں کر سکیں گے کیونکہ وہ دنیا میں اس سے محروم رہے تھے۔اس کے مقابلہ میں مومنوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ۔اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ( القیامۃ :۲۳،۲۴)اُس دن خدا تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونے والے مومن بندوں کے مونہہ بڑے ہشاش بشاش اور خوبصورت ہوںگے اس لئے کہ وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوںگے۔اسی طرح قرآن کریم لقائے الٰہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ( یونس :۸۔۹) یعنی وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی تڑپ اپنے دلوں میں نہیں رکھتے اور دنیا پر ہی راضی ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اس پر اُن کو اطمینان اور سکون حاصل ہو گیا ہے اور وہ لوگ جو ہمارے نشانوں سے غافل ہیں اُن کا ٹھکانہ اُن کے اعمال کے سبب سے جہنم ہوگا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لقاء الٰہی کو روحانیت کی جان اور اسلام کا مغز قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب لقاء الٰہی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔انہیں ہم سزا دیں گے اور انہیں جہنم میں ڈالیں گے افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے کلام اور الہام کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور کوئی شخص امّت محمدیہ میں ایسا نہیں ہو سکتا جو اللہ تعالیٰ کے حضور ایسا مقام حاصل کر سکے کہ خدا اُس سے بولنے لگ جائے۔حالانکہ یہی ایک مسئلہ ہے جو اسلام کی دوسرے مذاہب پر فوقیت ثابت کرنے والا ہے۔باقی مسائل کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب والے بھی کچھ نہ کچھ پیش کر دیتے ہیں جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساحروں سے مقابلہ ہوا تو جادوگروں نے بھی مقابل میں رسّیاں ڈال دیں اور گو اس میں اُن کو ناکامی ہوئی مگر بہر حال انہوں نے مقابلہ کے لئے کچھ نہ کچھ تو پیش کر دیا۔اسی طرح باقی مسائل کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب والے کچھ نہ کچھ باتیں پیش کر دیتے ہیں خواہ وہ غلط ہی ہوں مگر لقاء الٰہی ایک ایسی چیز ہے جس کے مقابل میں دوسرا کوئی مذہب کھڑا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اگر وہ اس کا دعویٰ کریں تو اُن کو ماننا پڑ تا ہے کہ لقاء الٰہی اس دنیا میں بھی ہو سکتا ہے۔جس کا ثبوت وہ اپنے مذہب سے پیش نہیں کر سکتے اس صورت میں اُن کو لازماً اسلام کی برتری تسلیم کرنی پڑتی ہے کیونکہ اسلام صرف لقاء الٰہی کا دعویٰ ہی نہیں کرتا بلکہ وہ اس کا ثبوت بھی پیش کرتا ہے۔پس وہ اس