تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 75
یہ اعتراض کرنا درست نہیں ہو سکتا۔اعتراض تب ہوتا جب دوسرے انبیاء و رُسُل کے خلاف کوئی نئی بات آپ میں پائی جاتی۔لیکن جب آپ ؐ کا قدم اُسی نہج پر ہے جس پر پہلے انبیاء مبعوث ہوئے اور اُسی طریق پر آپؐ قدم زن ہیں جس طریق پر پہلے انبیاء چلے تو آپ پر اعتراض کرنا درحقیقت اس امر کا اظہار کرنا ہے کہ انہیں سلسلۂ نبوت پر ایمان ہی نہیں۔مگر فرماتا ہے۔وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً۔تمہیں دشمنوں کی مخالفت اور اُن کے اعتراضات سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ہم نے ابتلائوں اور امتحانات کا سلسلہ بھی جاری کیا ہوا ہے جن کے ذریعہ ہم کھوٹے اور کھرے میں امتیاز کر دیتے ہیں۔اور انبیاء کے زمانہ میں یہ امتحانات زیاد ہ تر اسی رنگ میں ہوتے ہیں کہ باپ کو بیٹے سے اور بیٹے کو باپ سے۔خاوند کو بیوی سے اور بیوی کو خاوند سے۔بھائی کو بہن سے اور بہن کو بھائی سے جُدا ہونا پڑ تا ہے۔اور اس طرح وہ ایک دوسرے کی ایمانی آزمائش کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔پھر یہ آزمائش صرف خاندانوں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ قوم کی قوم کو اس دور میں سے گذرنا پڑتا ہے اور کفار مومنوںکے لئے اور مومن کفارکے لئے ابتلاء اور آزمائش کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ پر ایمان لانے سے ادھر صحابہ ؓ کو آزمائشوں کی ایک آگ میں سے گذرنا پڑا اور اُدھر اُن کی مخالفت نے دشمنوں کی اندرونی خرابیوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے تو نہ ابوبکر ؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ اور علیؓ کی خوبیاں دنیا پر ظاہر ہوتیں اور نہ ابوجہل اور عُتبہ اور شیبہ کی بدکرداریاں دنیا پر عیاں ہوتیں۔یہ اسی ایمانی آزمائش کا نتیجہ تھا کہ اُس نے ایک طرف تو صحابہ ؓ کے اندرونی حسن کو ظاہر کر دیا اور دوسری طرف کفار کا مخفی کوڑھ لوگوں پر ظاہر ہو گیا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے تو دنیا میں یہی سمجھا جاتا کہ ابو الحکم مکہ کا ایک بہت بڑا مدبر اور سمجھدار رئیس تھا اور ابوبکر ؓ وہاں کا ایک دیانتدار اور بااخلاق تاجر تھا۔جب مخالفت کی آگ بھڑکی تو اُس نے صحابہ ؓ کو کندن بنا دیا۔اور کفار کا ملمع اتار کر ان کا پیتل ہونا لوگوں پر ظاہر کر دیا۔غرض صحابہ ؓ کفارکے لئے اور کفار صحابہ ؓ کے لئے آزمائش کا ایک ذریعہ بن گئے۔مگر فرماتا ہے ان آزمائشوں میں تمہارا صبر اور استقامت سے اپنے ایمان پر قائم رہنا ضروری ہے تاکہ تمہاری عظمت لوگوں پر ظاہر ہو اور یہ کبھی خیال نہ کرو کہ اگر ابتلا ء اسی طرح بڑھتے چلے گئے تو شاید تمہاری ہلاکت کا باعث بن جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام حالا ت کو دیکھ رہا ہے۔اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ تم تو ان ابتلائوں سے گھبراتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ جو بصیر ہے وہ جانتا ہے کہ یہ ابتلاء تمہاری طاقت کو کچلنے کا باعث نہیں بلکہ تمہیں اور بھی ترقی کی طرف لے جانے والے ہیں۔یہی نکتہ مولانا روم ؒ نے اپنے اس شعر میں بیان فرمایا ہے کہ