تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 74

’اُس نے ان سے کہا۔کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟انہوں نے اُسے بھُنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا۔اُس نے لےکر اُن کے روبرو کھا یا۔‘‘ ( لوقا باب ۲۴ آیت ۴۱تا۴۳) ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ؑ اسی طرح بھوک محسوس کرتے تھے جس طرح دوسرے لوگ بھوک محسوس کرتے ہیں۔اور وہ اسی طرح کھانا کھاتے تھے جس طرح اُن کے شاگرد اور دوسرے تمام لوگ کھانا کھاتے تھے۔بلکہ واقعۂ صلیب کے بعد انہوں نے خود شاگردوں سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ کھانےکے لئے موجود ہے۔اور جب انہوں نے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ پیش کیا تو انہوں نے سب شاگردوں کے سامنے وہ مچھلی کا قتلہ لے کر کھا لیا۔پھر انجیل یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت مسیح ؑ بازاروں میں بھی جاتے تھے اور لوگوں کو دینی تعلیم دیتے تھے۔چنانچہ ایک مقام پر وہ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ نجات قربانیوں اور عمل کے ساتھ وابستہ ہے فرماتے ہیں۔’’ اُس وقت تم کہنا شروع کروگے کہ ہم نے تو تیرے روبرو کھایا پیا اور تُو نے ہمارے بازاروں میں تعلیم دی مگر وہ کہے گا میں تم سے کہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا تم کہاں کے ہو۔اے بدکارو! تم سب مجھ سے دُور ہو۔‘‘ ( لوقا باب ۱۳ آیت ۲۶،۲۷) اسی طرح لکھا ہے کہ ’’ وہ خواہ گائوں ،خواہ شہروں ، خواہ بستیوں میں جہاں کہیں جاتا تھا لوگ بیماروں کو بازاروں میں رکھ کر اُس کی منت کرتے تھے کہ وہ صر ف اُس کی پوشاک کا کنارہ چھولیں۔اور جتنے چھوتے تھے شفا پاتے تھے۔‘‘ ( مرقس باب ۶ آیت ۵۶) غرض حضرت مسیح ناصری ؑ جن کو الوہّیت میں خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیا جاتا ہے اُ ن کے متعلق اناجیل سے ثابت ہے کہ وہ اُسی طرح کھانے پینے کے محتاج تھے جس طرح دوسرے لوگ محتاج تھے اور وہ بھی اُسی طرح بازاروں میں چلتے پھرتے تھے جس طرح دوسرے لوگ چلتے پھرتے تھے اور یہی حال دوسرے تمام انبیاء کا تھا۔آدم ؑسے لے کر آج تک کوئی نبی بھی ایسا مبعوث نہیں ہوا جو کھانے پینے کا محتاج نہ ہو۔پھر انہیں خدا قرار دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے ؟ اس کے علاوہ اِن آیات میں کفار کے اُس اعتراض کا بھی جواب دیا گیا ہے جو انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب پہلے انبیاء بھی کھانے پینے کے محتا ج تھے اور وہ بھی بازاروں میں چلتے پھرتے تھے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہارا