تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 69
وقت ڈنڈا اٹھایا اور آسمان کی طرف چڑھنا شروع کر دیا۔عزرائیل آگے آگے بھاگا جا رہا تھا اور وہ ڈنڈا اٹھائے اُس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے تھے۔وہ آسمان میں داخل ہی ہونے لگا تھا کہ یہ اس کے پاس پہنچ گئے اور زور سے اُسے ڈنڈا مارا۔جس سے وہ لنگڑا ہو گیا۔اور رُوحوں کی تھیلی اس کے ہاتھ سے چھین کر اُس کا منہ کھول دیا۔جس کے نتیجہ میں وہ تمام لوگ زندہ ہوگئے جن کی روحیں اس روز عزرائیل قبض کر کے لے آیا تھا۔وہ روتا روتا خدا تعالیٰ کے پاس گیا اور کہنے لگا خدایا ! میں تو تیرے کام کے لئے گیا تھا مگر عبدالقادر جیلانی نے مجھے ڈنڈا مارا اور میرے ہاتھ سے روحوں کی تھیلی چھین کر اُس نے ساری روحوں کو آزاد کر دیا۔اب میرا کام کیا رہ گیا ہے۔میر ی جگہ کسی اور کو مقرر کر دیجئیے۔پھر انہوں نے صرف وہی رُوح نہیں نکالی جو اُن کے مرید کے لڑکے کی تھی بلکہ جتنی روحیں میں نے آج نکالی تھیں وہ سب کی سب انہوں نے آزاد کر دی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب یہ بات سُنی تو فرشتہ سے کہنے لگا چُپ چُپ اگر عبدالقادر جیلانی نے یہ بات سُن لی اور اُس نے اگلی پچھلی ساری رُوحیں آزاد کر دیں تب بھی میں نے کیا کر لینا ہے۔اس قسم کے تما م شرکاء اور ان کی عبادت کرنےوالوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سامنے حاضر کرےگا۔اور مجرموں پر حجت تمام کرنےکے لئے اُن سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو اس شرک کی تعلیم دی تھی۔وہ کہیں گے خدایا ! ایسا کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اُن سے وہ بات کہتے جس کے کہنے کا ہمیں کوئی حق نہیں تھا۔ہم تو ان لوگوں کو صرف تیری پرستش کی تعلیم ہی دیتے رہے مگر جب ایک لمبازمانہ گذر گیا۔تو یہ اس تعلیم کو بھول گئے اور انہوں نے ہمیں تیرا شریک قرار دے دیا۔پس ہم ان کے عقائد سے بیزار ہیں۔یہی بات انجیل میں حضرت مسیح ناصری ؑ نے بھی ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ’’اُس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے کہ اے خداوند ! اے خداوند !کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بد رُوحوں کو نہیں نکالا۔اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے ؟ اُس وقت میں اُن سے صاف کہہ د وں گا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی۔اے بدکارو! میرے پاس سے چلے جائو۔‘‘ ( متی باب ۷ آیت ۲۲،۲۳) اسی طرح لکھا ہے۔’’ وہ شہر شہر اور گائوں گائوں تعلیم دیتا ہوا یروشلم کا سفر کر رہا تھا اور کسی شخص نے اُس سے پوچھا کہ اے خداوند ! کیا نجات پانے والے تھوڑے ہیں ؟ اُس نے اُن سے کہا۔جانفشانی کرو کہ تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہتیرے داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور نہ ہو سکیں گے۔