تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 61
گیا ہے۔کیونکہ تمام اولو العزم انبیاء دنیاکے لئے ایک قیامت ہوتے ہیں جو پُرانے نظام کی جگہ ایک نیا نظام قائم کرتے ہیں اور سابق عمارات کو گِرا کر ایک نئی روحانی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔اُن کے زمانہ میں یوم القیامۃ کی یہ دونوں خصوصیات یعنی اہل زمانہ کی موت اور پھر ان کا دوبارہ احیاء اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔چنانچہ ایک قیامت تو اُن کے ذریعہ یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی جماعت کو ترقی دیتا اُسے دنیا میں غلبہ عطا کر تا اور اُسے نئے سرے سے زندگی بخشتا ہے۔اور ایک قیامت اُن کے ذریعہ یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔گویا ایک طرف اگر اُن کے ذریعہ دنیا میں حشر بر پا ہو جاتا ہے اور مُردے زندہ ہونے لگتے ہیں تو دوسری طرف ہلاکت کا عذاب دنیا کے ایک حصے پر وارد ہو جاتا ہے۔اور قیامت بھی دو ہی طرح وارد ہوگی۔ایک حشر کے ذریعہ اور ایک ہلاکت کے ذریعہ۔قیامت اسی کانام ہے کہ ایک زمانہ میں سب لوگ مر جائیں گے اور قیامت اسی کا نام ہے کہ ایک زمانہ میں سب لوگ زندہ ہو جائیں گے۔پس قیامت کے دو حصے ہیں ایک لوگوں کا مر جانا اور ایک لوگوں کا زندہ ہو جانا۔جب کبھی دنیا میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی آیا ہے یہ دونوں باتیں ظاہر ہوئی ہیں۔اس کے ذریعہ کچھ لوگ مر بھی گئے ہیں اور اس کے ذریعہ کچھ لوگ زندہ بھی ہوئے ہیں۔جو لوگ اس کے دشمن تھے وہ بحیثیت قوم تباہ کر دئیے گئے اور جو لوگ اس کے ساتھی تھے وہ بحیثیت قوم ترقی پاگئے۔پس اس آیت میں ساعۃ سے مراد وہ دن ہے جس دن محمد رسول اللہ ْصلی اللہ علیہ وسلم کو فتح حاصل ہوئی اور کفار کو شکست۔جس دن دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہ جو مکہ کی گلیوں میں بے یارو مددگار اور یکہ و تنہا پھرا کرتا تھا وہ تو بادشاہ ہو گیا اور وہ جو ملک کے بادشاہ تھے اس کے محکوم اور غلام بن گئے۔پھر فرماتا ہے۔وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی کامیابی کا انکار کرنے والوںکے لئے ہم نے ایک آگ تیار کی ہے جس کے شعلے انہیں ہر وقت بھسم کرتے رہیں گے۔چنانچہ ایک آگ تو خدا تعالیٰ نے ان کے لئے اس طرح تیار کی کہ وہ رات اور دن جس مذہب کو مٹانےکے لئے کمر بستہ رہتے تھے اُس مذہب کو اُن کے بیٹوں اور بیٹیوں اور بھائیوں اور بہنوں نے قبول کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ اسلام مکہ کی چاردیواری سے نکل کر عرب کے اکناف میں پھیل گیا۔اور پھر عرب سے نکل کر ساری دنیا کو اُس نے اپنے تسلط میں لے لیا۔جب کفار کے اپنے بیٹے اور پوتے اسلام کی آغوش میں آکر لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتے ہوںگے۔تو اُن کے دل غم و غصہ کے جذبات سے کس طرح جل جل کر خاکستر ہوتے ہوںگے اور وہ کتنا بڑا عذاب محسوس کرتے ہوںگے۔