تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 612

پرکہے۔جب انہیں معلوم ہواکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں توانہوں نے اپنے درد اورکرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیَّ النَّاظِرٗ مَنْ شَآءَ بَعْدَ کَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِرٗ (دیوان حسان بن ثابت الانصاری صفحہ ۳۰۸) یعنی اے محمد ؐرسول اللہ! تُو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہوگئیں۔اب خواہ کو ئی مرے۔میراباپ مرے۔میری ماں مرے۔بیوی مرے۔بھائی مرے۔بیٹامرے۔مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں مَیں تو تیری موت سے ہی ڈراکرتاتھا۔حضر ت حسان بن ثابتؓ جنہوں نے یہ شعرکہے۔وہ خو د بھی نیک تھے اور ان کے یہ اشعار بھی حقیقت پر مبنی تھے۔پس یقیناً ایسے لوگ پہلے گروہ میں شامل نہیں۔پھر فرمایا۔ان کی عادت میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کاکثرت سے ذکرکرتے ہیں۔اورغیر مومن شاعر وں کی طرح صرف مونہہ سے یہ نہیں کہتے رہتے کہ ہم اپنے محبوب کے لئے یہ یہ قربانیاں کریں گے بلکہ جب دین کے بار ہ میں ان پر ظلم کیا جاتا ہے تووہ عملاً اس کا بدلہ لیتے ہیں اورثابت کردیتے ہیں کہ جس فدائیت کا انہوںنے اپنے شعروں میں ذکر کیاتھا عملاً بھی وہ فدائیت ان کے اند ر پائی جاتی ہے۔مگراس کے ساتھ ہی ان کایہ رویہ نہیں ہوتاکہ وہ اپنے مخالف پر ظلم کریں بلکہ وہ ہمیشہ ظلم کے بعد بدلہ لیتے ہیں خودکسی دوسرے پر ظلم نہیں کرتے۔اس آیت میں بھی اورقرآن کریم کی متعدد دوسری آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عمل صالح کو لازمی قرار دیا ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ منافق بھی زبان سے کہہ دیتاہے کہ میںا یمان لایاہوں یامیں خدا تعالیٰ اوراس کی شریعت کو مانتاہوں اورلوگ بھی اس کے اس ظاہری قول کے مطابق یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ مومن ہے۔حالانکہ نہ تو وہ خود اپنے دل میں اسلام کو مان رہاہوتاہے اورنہ ہی خدا تعالیٰ اس کے اس ایمان کو تسلیم کرتاہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ تیرے پاس آتے ہیں اورقسمیں کھا کھا کرکہتے ہیں کہ تُو اللہ کارسول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم بھی گواہی دیتے ہیںکہ تواللہ کارسول ہے۔مگریہ لوگ جوکچھ کہتے ہیں صرف زبان سے ہی کہتے ہیںان کے دل میں ایمان نہیں(المنافقون:۲)۔اس کے مقابلہ میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دل میں تویہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان کی حقیقت کو پوری طرح جانتے ہیں۔مگر واقعہ یہ ہوتاہے کہ وہ کچھ بھی نہیں جاتے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے۔جیسے بعض باتیں جواشاروں