تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 611
کریں وہ کہنے لگا حضور میں شاعرنہیں ہوں۔بادشاہ نے پوچھا آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔وہ کہنے لگا۔حضورمیں وہی ہوں جس کا قرآن کریم میں اس طرح ذکرآتاہے کہ وَ الشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ۔شاعروں کے پیچھے غاوی آیاکرتے ہیں۔وہ شاعر تھے اورمیں غاوی ہوں۔بادشاہ کو اس کا یہ لطیفہ پسند آگیا اور اس نے حکم دے دیا کہ اسے بھی کچھ انعام دے دیاجائے۔اب یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ شاعروں کے پیچھے چلنے والے عموماً گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں کیونکہ شاعر کبھی کچھ کہہ دیتے ہیں کبھی کچھ۔ان کا کوئی اصول نہیں ہوتا۔کبھی ہزلیہ کلام سے لوگوں کو ہنساتے ہیں۔کبھی شہادتِ امام حسینؓ کا واقعہ لکھ کر لوگوں کورُلاتے ہیں۔کبھی مدحیہ قصائد پڑھتے ہیں اور کبھی اس کی ہجو کرناشروع کردیتے ہیں۔غرض ہرجنگل میں سرگردان پھرتے ہیں۔کوئی ایک مقصد اورمدعالے کر کھڑے نہیں ہوتے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تودنیا میں توحیدپھیلا نے کے لئے آیا ہے اوریہی ایک مقصد ہے جو رات اور دن اس کے دماغ پر حاوی رہتاہے اوراسی کے لئے وہ تکلیفیں اٹھارہاہے۔پھر تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہوکہ یہ ایک شاعر ہے۔اگر شاعر ہوتاتو اس کا بھی کوئی مقصد نہ ہوتا۔جدھر لوگوں کی اکثریت ہوتی ادھر ہی چل پڑتا اوران کو خو ش کرنے کی کوشش کرتا۔مگر اس نے توسب دنیا کو اپنا مخا لف بنالیاہے اورہر ایک کو توحید کی طرف لانے کی کوشش کررہا ہے پھر یہ شاعر کس طرح ہوا؟ پھر فرماتا ہے وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالَایَفْعَلُوْنَ شاعر وں میں ایک یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ ان کا قول اَورہوتاہے اورفعل اَور۔اوروہ جوکچھ منہ سے کہتے ہیں عملاً وہ ایسانہیں کرتے۔یعنی اگر وہ اپنے اشعار میں لوگوںکو اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں توخود شرابیں پیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتے ہیں توآپ نماز اور روزہ کے قریب بھی نہیں جاتے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاجوقول ہے وہی اس کا عمل ہے اورجو بات اس کے عمل میں ہے۔وہی اس کی زبان پر ہے۔پس تمہارایہ کہناکہ محمد رسول اللہ ؐ ایک شاعر ہے محض حقائق پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔اگرتم غور کرو توتمہیں نظرآجائے گاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورشعراء کے کلام اوران کے کردا رمیں بُعد المشرقین پایا جاتاہے اوردونوں کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔پھر فرماتا ہے اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا۔ہاں ان شاعروںکو ہم مستثنٰی کرتے ہیں جومومن ہیں اورمناسب حال عمل کرتے ہیں۔وہ اگرشعر کہتے ہیں توان کا شعر حقیقت پرمبنی ہوتاہے اوروہ وہی کچھ شعر میںکہتے ہیں جو عملی زندگی میں ان کے اندرپایا جاتا ہے۔اس کی مثال کے طورپر ہم حضرت حسان بن ثابتؓ کے وہ اشعار پیش کرتے ہیں جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات